Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3760

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِيْنهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" فَقَالَ لَهٗ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيْرًا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "وَإنْ كَانَ قَضيبًا مِنْ أَرَاكٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي أمامة قال: قال رسول صلى الله عليه وسلم: "من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه، فقد أوجب الله له النار، وحرم عليه الجنة" فقال له رجل: وإن كان شيئا يسيرا يا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: "وإن كان قضيبا من أراك". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولنے جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق مار لیا ۱؎تونے اس کے لیے آگ لازم کردی اور اس پر جنت حرام کردی ۲؎تو حضور سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ معمولی چیز ہو یا رسولتو فرمایا اگرچہ پیلو کی شاخ ہی ہو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎وہ مارا ہوا حق مال ہو یا کوئی اور چیز جیسے حق قذف(تہمت)بیوی کی باری کا حق یا مردار کی کھال یا وہ نجاستیں جو مال نہیں مگر ان کا استعمال جائز ہے،یہ حدیث ان سب حقوق کو شامل ہے۔(مرقات)پھر حق حقیر ہو یا عظیم۔مسلمان کی قید اہتمام ظاہرکرنے کے لیے ہے ورنہ ذمی اور مستامن کافر کا حق مار لینے کی بھی یہ ہی سزا ہے لہذا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ذمی کافر کا حق مار لینا جائز ہے۔فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نےفدماءھم کدماءنا واموالھم کاموالناان کافروں کے خون اور مال مسلمانوں کے خون و مال کی طرح محترم ہیں اس لیے اگر مسلمان ذمی کافر کا مال چوری کرے تو اس کا ہاتھ کٹے گا۔
۲
؎اگر اس مجرم نے یہ کام حلال جان کر کیے تو کافر ہوا اور دائمی جہنم کا حقدار اور اگر حرام سمجھ کر کیا تو ابرار کے ساتھ جنت کا اول داخلہ اس پر حرام ہوگیا،اشرار کے ساتھ اولًا سزا پائے گا پھر ایمان کی برکت سے بخشا جائے گا کیونکہ مسلمان کے لیے دوزخ میں ہمیشگی نہیں۔
۳
؎عرب میں پیلو(وان)بہت معمولی درخت ہے،پھر اس کی شاخ جس کی مسواک ہوتی ہے وہ تو بہت ہی حقیر چیز ہے اس لیے معمولی چیز کو اس سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3760