Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3786

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَضَى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَي الْحَكِم. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

عن عبد الله بن الزبير قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن الخصمين يقعدان بين يدي الحكم. رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے قطعی حکم دیا کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بٹھائے جائیں ۱؎(ابو داؤد)

شرح حدیث

۱؎اس زمانہ میں حکام مسندوں پر بیٹھے تھے اس لیے فریقین کو ان کے سامنے بٹھایا جاتا تھا،اب حکام کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے فریقین اور انکے وکیل سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ حاکم فریقین میں برابری کرے،نشست اورگفتگو دونوں کی یکساں رکھے،کسی ایک کی طرف میلا ن نہ کرے کہ اس سے دوسرے فریق کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ حاکم کے لیے سب سے ضروری چیز فریقین میں برابری برتنا ہے۔(مرقات)یہ بہت مشکل چیز ہے کبھی ایک فریق اعلیٰ منصب والا ہوتا ہے دوسرا فریق معمولی حیثیت کا۔ حاکم اگر اعلیٰ منصب والے کو اپنے پاس بٹھائے دوسرے کوسامنے کھڑا کرے تو یہ جرم ہے اس سے ددسرے فریق کا دل ٹوٹے گا۔خلفاءاسلام کی تواریخ سے ایسے واقعات کا پتہ لگتا ہے کہ معمولی رعایا نے بادشاہ کے خلاف دعویٰ کردیا،قاضی نے سلطان کو طلب کیا تو اسے اور مدعی کو اپنے سامنے ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا دوران مقدمہ میں بادشاہ کا کوئی احترام نہ کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3786