Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3784

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى يَلُوْمُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللّٰهُ ونِعْمَ الْوَكِيْلُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عوف بن مالك: أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى بين رجلين، فقال المقضي عليه لما أدبر: حسبي الله ونعم الوكيل فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله تعالى يلوم على العجز ولكن عليك بالكيس، فإذا غلبك أمر فقل: حسبي الله ونعم الوكيل". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دوشخصوں کے درمیان فیصلہ فرمایا تو ہارے ہوئے نے جب پیٹھ پھیری تو بولا مجھےکافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہتعالٰی عاجزی پر ملامت فرماتا ہے لیکن تجھ پر احتیاط لازم تھی ۳؎پھر جب تجھ پر کوئی چیز غالب آئے تو کہو کہمجھے کافی ہے، اور وہ اچھا کارسازہے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عوف ابن مالک دو ہیں:ایک تابعی،دوسرے صحابی،یہاں صحابی مراد ہیں جو اشجعی ہیں،غزوہ خیبر میں شریک ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ بنی اشجع کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا،آخر میں ملک شام میں رہے،وہاں ہی وفات پائی، ۷۳ھ؁ ∞ میں آپ کی وفات ہے،بہت سے صحابہ نے آپ سے روایات لیں۔(اشعہ)
۲
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فیصلہ جس کے خلاف ہوا تھا اس نے یہ پڑھا جس کا مقصد یہ تھا کہ مدعی نے ظلمًا مجھ سے مال وصول کرلیا ناجائزطور پر،حسرت و غم کے لیے یہ الفاظ کہے جاتے ہیں۔
۳
؎سبحان اﷲ!کیسا پاکیزہ فرمان ہے۔مقصد یہ ہے کہ اولًا خود احتیاط سے کام نہ لینا بعد میں نقصان ہوجانے پر یہ کلمات کہنا اور توکل کرنا رب تعالٰی کو ناپسند ہیں توکل کی حقیقت یہ ہے۔شعر
توکل می کنی دو کارکن کسب کن پس تکیہ بر جبار کن
لہذا جب کسی کو قرض دو تو گواہی،تحریر وغیرہ سے اس کی پختگی کرلو،بغیر گواہی تحریر قرض دے دینا پھر مقدمہ ہار جانے پر توکل کا اظہار کرنا غلط ہے۔
۴
؎یعنی جب تو پوری پوری احتیاط کرلے مگر قضائے الٰہی سے تجھے نقصان ہوجائے تب تو یہ کہہ کر توکل کا اظہار کر تب تیرا توکل درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3784