Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3776

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: أَنْ رَجُلًا مَنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيْهَا أَبُوْ هٰذَا، وَهِيَ فِيْ يَدِهٖ، قَالَ: "هَلْ لَكَ بَيِّنةٌ؟ " قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهٗ، وَاللّٰهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيْهَا أَبُوْهُ فتهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِيْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَقْطَعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِيْنٍ، إِلَّا لَقِيَ اللّٰهَ وَهُوَ أَجْذَمُ"، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه: أن رجلا من كندة، ورجلا من حضرموت، اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أرض من اليمن، فقال الحضرمي: يا رسول الله! إن أرضي اغتصبنيها أبو هذا، وهي في يده، قال: "هل لك بينة؟ " قال: لا، ولكن أحلفه، والله ما يعلم أنها أرضي اغتصبنيها أبوه فتهيأ الكندي لليمين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يقطع أحد مالا بيمين، إلا لقي الله وهو أجذم"، فقال الكندي: هي أرضه. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص کندہ کا اور ایک شخص حضرموت کا یہ دونوں اپنا مقدمہ یمنی زمین کے متعلق رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لائے تو حضرمی بولا یارسولصلی اللہ علیہ و سلم زمین میری ہے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلی تھی ۱؎اور وہ زمین اسی کے قبضہ میں ہے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں ۲؎عرض کیا نہیں لیکن میں اس سے قسم لوں گا اس پر کہکی قسم وہ نہیں جانتا کہ وہ میری زمین ہے۳؎کہ اس کے باپ نے وہ مجھ سے غضب کی ہے تب کندی قسم کے لیے تیارا ہوا ۴؎تب رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی کا مال جھوٹی قسم سے نہیں مارے گا مگر وہتعالٰی سے کوڑھی ہوکر ملے گا۵؎تو کندی بولا وہ زمین اسی کی ہے ۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یمن کے علاقہ میں ایک میری مملوکہ زمین تھی اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کرکے مجھے بے دخل کردیا باپ اس کا فوت ہوگیا اس نے بطور میراث اس زمین پر قبضہ کرلیا ہے،اسے خبر ہے کہ اس کے باپ نے میری زمین چھینی تھی مجھے دلوائی جائے، چونکہ اب بظاہر زمین کا مالک وہ ہی تھا اس کے لیے اس پر ہی دعویٰ کیا گیا اگرچہ غصب کا مجرم اس کا باپ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ پرانے مقدمہ کی بھی سماعت حاکم کو کرنا چاہیے،جرم نیا ہو یا پرانا بہرحال جرم ہے ،یہ بھی معلوم ہوا کہ ناجائز قبضہ ناجائز ہے کوئی شخص ناجائز پرانے قبضہ کی وجہ سے اس کا مالک نہیں ہوجاتا،یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کے اپنے مملوکہ مال کی میراث بٹے گی۔ امانت،غصب،قرضہ،عاریت میں میراث جاری نہ ہوگی،یہ چیزیں مالکوں کو واپس ہوں گی۔
۲
؎یعنی اس مقدمہ میں تم مدعی ہو کہ خلاف ظاہر کا دعویٰ کررہے ہو اور یہ شخص بوجہ قابض ہونے کے مدعیٰ علیہ ہے لہذا تم اس غصب کی گواہی پیش کرو۔
۳
؎یعنی یہ اس واقعہ کو جانتا ہے ورنہ اپنی لاعلمی پر قسم کھا جائے۔
۴
؎یعنی اس نے قسم کھانا چاہی۔
۵
؎یہ فرمان عالی اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،بعض اعمال کا اثر چہرے بلکہ تمام جسم پر قیامت میں نمودار ہوگا، رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ"کفروایمان بھی چیزوں سے نمودار ہوگا اور اعمال بدونیک بھی،واقعی ایسا جھوٹا حقیقتًا کوڑھی ہوگا،بعض شارحین نے بلا وجہ کوڑھی ہونے کی تاویلیں کیں کہ وہ حرکت و برکت سے محروم ہوگا وغیرہ۔
۶
؎سبحان اﷲ!یہ ہے اثر اس زبان فیض ترجمان کا کہ دو کلمات میں اس کے دل کا حال بدل گیا اور سچی بات کہہ کر زمین سے لا دعویٰ ہوگیا۔یہ حدیث فصل اول میں بروایت حضرت علقمہ ابن وائل گزر چکی مگر وہاں یہ ذکر نہ تھا کہ کندی نے کہا یہ اس کی زمین ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3776