Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3764

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلْقَمَةَ اِبْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُل مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ هٰذَا غَلَبَنِيْ عَلٰى أَرْضٍ لِيْ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِيْ وَفِيْ يَدِيْ، لَيْسَ لَهٗ فِيْهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: "ألكَ بَيِّنةٌ" قَالَ: لَا، قَالَ: "فَلَكَ يَمِيْنُهٗ"، قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ، لَا يُبَالِيْ عَلٰى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: "لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذٰلِكَ"، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: "لَئِنْ حَلَفَ عَلٰى مَالِهٖ لِيَأْكُلَهٗ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللّٰهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن علقمة ابن وائل عن أبيه قال: جاء رجل من حضرموت، ورجل من كندة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال الحضرمي: يا رسول الله! إن هذا غلبني على أرض لي، فقال الكندي: هي أرضي وفي يدي، ليس له فيها حق، فقال النبي صلى الله عليه وسلم للحضرمي: "ألك بينة" قال: لا، قال: "فلك يمينه"، قال: يا رسول الله ! إن الرجل فاجر، لا يبالي على ما حلف عليه، وليس يتورع من شيء، قال: "ليس لك منه إلا ذلك"، فانطلق ليحلف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أدبر: "لئن حلف على ماله ليأكله ظلما، ليلقين الله وهو عنه معرض". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے ۱؎راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک شخص حضر موت کا اور ایک شخص کندہ کا حاضر ہوا ۲؎حضرمی نے عرض کیا یارسولاس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے(جبرًا قبضہ) پھر کندی بولا وہ زمین میری ہے اور میرے قبضے میں ہے ۳؎اس میں اس شخص کا کچھ حق نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرمی سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں عرض کیا نہیں فرمایا تو تجھے اس کی قسم(ماننا پڑے گی)۴؎وہ بولا یارسولیہ شخص فاسق ہے پرواہ نہیں کرتا کہ کس چیز پر قسم کھائے اور کسی چیز سے یہ احتیاط نہیں کرتا فرمایا تیرے لیے اس کی طرف سے اس کے سوا کچھ نہیں ۵؎وہ دوسرا قسم کھانے اٹھا تو فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جب وہ پھرا ۶؎کہ اگراس نے اس کے مال کی قسم کھالی تاکہ اسے ظلمًا کھالے تو وہسے اس حال میں ملے گاتعالٰی اس سے غیرمتوجہ ہوگا ۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ علقمہ تابعی ہیں،کوفی ہیں،حضرمی ہیں،ان کے والد وائل ابن حجر صحابی ہیں،علقمہ کو ابن حبان نے ثقہ فرمایا۔
۲
؎حضر موت یمن کا ایک مشہور شہر ہے،کندہ یمن کا ایک قبیلہ ہے کاف کے کسرہ سے۔
۳
؎یعنی حضرمی نے کندی پر غصب کا دعویٰ کیا اور کندی نے جواب دعویٰ کیا اور کندی نے جواب دعویٰ میں اپنے کو اس زمین کا مالک و قابض کہا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں قابض مدعیٰ علیہ ہوتا ہے غیر قابض مدعی ہوتا ہے اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرمی سے گواہ طلب فرمائے اور کندی پر قسم عائد کی۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ جس مدعیٰ علیہ پر جھوٹ یا فسق کا الزام ہو اس کی قسم معتبر ہے مگر گواہی میں تقویٰ وغیرہ کی پابندی ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"مسلمانوں میں سے دو عادل گواہ بناؤ قسم میں یہ پابندیاں نہیں کیونکہ گواہی الزام کے لیے ہوتی ہے قسم دفع کےلیے۔الزام اور دفع میں بڑا فرق ہے کافر قسم کے ذریعہ اپنے سے مدعی کا دعویٰ دفع کرسکتا ہے۔
۶
؎یعنی قسم کھانے کو مڑا اس کے لیے تیار ہوا،عدالت سے واپسی مراد نہیں۔
۷
؎اور اس پر رحمت نہ کرے گا۔اس حدیث سے چند فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ قابض بمقابلہ غیر قابض چیز کا مستحق ہے۔دوسرے یہ کہ اگر مدعیٰ علیہ ا قرار نہ کرے توا س پر قسم کھانا لازم ہے،اگر قسم سے انکارکرے گا تو مدعی کے حق میں فیصلہ ہوگا۔تیسرے یہ کہ مدعی کے گواہ مدعیٰ علیہ کی قسم پر مقدم ہیں اگر گواہ نہ ہوں تو اس سے قسم لی جاوے۔چوتھے یہ کہ دوران مقدمہ میں ایک فریق دوسرے کو فاسق وفاجر وغیرہ الفاظ کہے تو اسے برداشت کرنا پڑیں گے حاکم فسق کا ثبوت نہ مانگے گا بخلاف گواہ کے کہ اگر مدعیٰ علیہ مدعی کے گواہوں کو فاسق کہے تو حاکم ان کی عدالت کی تحقیق کرے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3764