Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3778

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِيْ هٰذَا عَلٰى يَمِيْنٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلٰى سِوَاكٍ أَخْضَرَ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ". رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يحلف أحد عند منبري هذا على يمين آثمة، ولو على سواك أخضر إلا تبوأ مقعده من النار، أو وجبت له النار". رواه مالك، وأبو داود، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولنے کہ نہیں قسم کھاتا کوئی میرے اس منبر کے پاس ۱؎جھوٹ پر قسم اگرچہ ہری مسواک پر ہو مگر وہ اپنا ٹھکانہ آگ کا بناتا ہے یا اس کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ۲؎(مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ مکہ معظمہ یعنی کعبہ معظمہ کا منبر اور تمام عالم کی مسجدوں کے منبر حضور ہی کے ہیں مگرھٰذافرماکر بتایا کہ ہماری مراد مسجد نبوی شریف کا منبر ہے جو ریاض الجنہ کے دوسرے کنارہ پر واقعہ ہے۔شعر
اک طرف روضہ کی جالی اک سمت منبر کی بہار بیچ میں جنت کی پیاری پیاری کیاری واہ واہ
۲
؎یعنی دوسری جگہ جھوٹی قسم کھانے سے ہمارے منبر کے سامنے ایسی قسم کھانا زیادہ خطرناک ہے کہ اس میں جھوٹ بھی ہے اور منبر رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اہانت بھی۔معلوم ہوا کہ اچھی جگہ اچھے وقت میں جیسے نیکی کا ثواب زیادہ ہوتا ہے ایسے ہی گناہ کا عذاب بھی زیادہ ،دیکھو اورمہینوں میں روزہ توڑنے سے صرف قضا واجب ہوتی ہے مگر ماہ رمضان میں روزہ توڑنے پر اکسٹھ روزے واجب ہیں ایک قضا کا ساٹھ کفارہ کے یہ کفارہ کیا ہے ماہ رمضان کی بے حرمتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3778