Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3779

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خُرَيْم بْنِ فَاتِكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْح، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: "عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّوْرِ بِالإِشْرَاكِ بِاللِه" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قرَأَ: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ، حُنَفَاءَ للّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن خريم بن فاتك قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، فلما انصرف، قام قائما، فقال: "عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله" ثلاث مرات، ثم قرأ: فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور ، حنفاء لله غير مشركين به رواه أبو داود، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خریم ابن فاتک ۱؎سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے نماز فجر پڑھی،پھر جب فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہوئے پھر تین بار فرمایا کہ جھوٹی گواہیکے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر کی گئی ہے ۲؎پھر یہ آیت تلاوت کی کہ بچو گندگی یعنی بتوں سے۳؎اور بچو جھوٹی بات سے۴؎کی طرف جھکتے ہوئے اس کے ساتھ شریک نہ کرتے ہوئے ۵؎(ابو داؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎خریمخ کے ضمہ سے ر کے فتحہ سے،آپ خریم ابن اخرم ابن شداد ابن عمرو ابن فاتک ہیں،اسدی ہیں، صحابی ہیں،حدیبیہ میں حاضر ہوئے،بدر میں شرکت ثابت نہیں۔
۲
؎زوربنا ہےزوربالفتح سے جس کے معنی ہیں مائل ہونا،ٹیڑھا ہونا۔اصطلاح میں جھوٹ کو بھی زور کہتے ہیں اور ملمع سازی کو بھی کیونکہ جھوٹا آدمی جھوٹ کی وجہ سے راہِ حق سے ہٹ جاتا ہے ملمع سازی عملی جھوٹ ہے کہ پیتل کو ملمع کرکے سونا دکھایا جاتا ہے یعنی قرآن کریم میں جھوٹی گواہی کو شرک کے ساتھ بیان فرمایا اور اسے شرک کے برابر قرار دیا کیونکہ شرک بھی جھوٹ کی ہی تو قسم ہے۔مشرک کہتا ہے رب دو ہیں یہ قول جھوٹ ہے سمجھتا ہے کہ بت لائق عبادت ہیں یہ اعتقادی جھوٹ ہے،نیز مشرک رب تعالٰی کے خلاف جھوٹ بول کر اس کا حق مارتا ہے اوریہ جھوٹا بندے کے خلا ف جھوٹ بول کر اس کا حق مارتاہے لہذا جھوٹ کو شرک سے بہت تناسب ہے۔
۳
؎من الاوثانمیںمنبیانیہ ہے اور اوثانرجسٌکا بیان ہے جیسے ظاہری پلیدی جسم یا کپڑے کو گندا کرتی ہے ایسے ہی بت پرستی دل کو گندا کرتی ہے۔
۴
؎مطلب یہ ہے کہ جیسے تم ظاہر گندگیوں سے گھن کرتے ہو ویسے ہی باطن گندگیوں سے گھن کرو،باطنی گندگی بت پرستی اور جھوٹی بات،جسم سے زیادہ دل اور روح کی فکر کرو۔
۵
؎حنفاءجمع ہےحنیفکیحنیفکے معنی ہیں کسی کی طرف جھکنا،مائل ہونا اورجنیفجیم سےکسی سے الگ ہونا،اس سے مائل ہونا ہے،حنیفوہ ہے جو باطل سے ہٹا ہو حق کی طرف مائل ہو اسی لیے حضرت ابراہیم السلام کو قرآن کریم نے حنیف فرمایا،ان کے صدقہ سے ہر مسلمان حنیف ہے کہ کفر سے ہٹا ہوا ہے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3779