Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3785

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا فِيْ تُهْمَةٍ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَزَادَ التِّرمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ: ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ.

وعن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده: أن النبي صلى الله عليه وسلم حبس رجلا في تهمة. رواه أبو داود، وزاد الترمذي والنسائي: ثم خلى عنه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو کسی تہمت میں قید کیا ۲؎(ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے یہ زیادتی کی پھر اسے چھوڑ دیا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حمید قشیری ہیں،تابعین میں سے ہیں،اکثر محدثین آپ کو ثقہ کہتے ہیں مگر مسلم،بخاری نے ان کی روایت اپنی کتاب میں نہ لی،ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی روایت منکر نہیں۔ (مرقات واشعہ)بعض نے آپ کو صحابی مانا مگر یہ صحیح نہیں۔
۲
؎اس طرح کہ کسی نے جھوٹی گواہی دی،اس کا جھوٹ ظاہر ہوجانے پر اسے قید کردیا۔(مرقات)یا کسی نے اس پر قرض کا دعویٰ کیا یا کسی اور جرم کا الزام لگایا تو حضور نے مدعیٰ علیہ کو تحقیق کے دوران میں قید کردیا،پھر جرم ثابت نہ ہونے پر اسے چھوڑ دیا۔ (مرقات و اشعہ)
۳
؎یا تو جھوٹے گواہ کو سزاءً کچھ روز قید کرکے چھوڑ دیا یا جرم ثابت نہ ہونے پر مدعیٰ علیہ کوچھوڑ دیا۔معلوم ہوا کہ قید کرنا بھی احکام شرعیہ سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3785