- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- حدیث نمبر 3761
فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3761
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهٖ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيْ لَهٗ عَلٰى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهٗ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيْهِ، فَلَا يَأْخُذَنَّهٗ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهٗ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إنما أنا بشر، وإنكم تختصمون إلي، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، فأقضي له على نحو ما أسمع منه، فمن قضيت له بشيء من حق أخيه، فلا يأخذنه، فإنما أقطع له قطعة من النار، . متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں بشر ہوں ۱؎اور تم میری طرف مقدمہ لاتے ہو اور ممکن ہے کہ تمہارے بعض دوسرے کے مقابل اپنی دلیل میں زیادہ زبان آور ہو ۲؎تو میں اس کے لیے اس جیسا فیصلہ کردوں جو اس سے سنوں۳؎تو میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ کروں تو وہ اسے ہرگز نہ لے کہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎خدا یا خدا کا جزء یا فرشتہ یا جن نہیں ہوں خالص انسان ہوں،یہ حصر اضافی ہے لہذا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں صرف بشرہوں نہ نبی ہوں نہ رسول،نہ نور نہ رحمۃ اللعالمین وغیرہ۔ﷲتعالٰی نے حضور کو لاکھوں صفات بخشی ہیں مگر حضور ہیں جنس بشر سے جیسے"اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ"کے معنے یہ ہیں کہﷲتعالٰی ایک ہیالہہے دو باتیں نہیں یہ مطلب کہ وہ الوہیت اور وحدانیت کے سواء کسی صفت سے موصوف نہیں نہ کریم ہے نہ غفار نہ ستار نہ مالک الملک وغیرہ۔اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہم ہیں بشر اور بشر سے بھول،خطا اجتہادی غلطی بھی ہوسکتی ہے اور وہ دھوکا بھی دیا جاسکتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ بعض جھوٹے مدعی اپنے کو سچا ظاہر کریں ہم ان کی گواہی پر اعتماد کرکے اسے سچا مان لیں۔خیال رہے کہ حضرات انبیاء کرام گناہ بدعقیدگی اور ان کے ارادوں سے معصوم ہیں،خطا اجتہادی غلطی سے معصوم نہیں لہذا حدیث واضح ہے اور عصمت انبیاء کے خلاف نہیں۔
۲؎الحنبنا ہےلحنسےلحنکے بہت معنے ہیں آواز،کہا جاتا ہے خوش الحان،زبان دانی،کلام کو ظاہر سے پھیرنا،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَ لَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیۡ لَحْنِ الْقَوْلِ"۔فصاحت و بلاغت،بعض معنے سے لحن اچھی چیز ہے بعض معنے سے بری یہاں بمعنی زبان دانی قدرت علی الکلام ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ جھوٹا آدمی قادر الکلام ہو اور سچا آدمی کلام پر قادر نہ ہو،جھوٹا اپنے کو سچا ظاہر کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرائے۔
۳؎خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اکثروبیشتر فیصلے ظاہر پر ہوتے تھے نہ کہ حقیقت پر تاکہ قیامت تک امت کے حکام فیصلوں میں حضور کی اس سنت پرعمل کریں کہ امت کے پاس وحی،الہام شرعی،غیب پر اطلاع نہیں،اگر حضور انور کے فیصلے سارے الہام وغیرہ پر ہوتے تو امت کیسے عمل کرتی اور بعض فیصلے کشف والہام وحی پر بھی فرماتے تھے جیسے طعمہ ابن ابیرق کی چوری کا مقدمہ حضور نے اپنے کشف پر فرمایا رب نے فرمایا:"اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ" لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں وہاںبما اراك اﷲمیں وحی کشف والہام سب داخل ہیں کہ خدا جو آپ کو دکھائے اس پر فیصلہ فرمادیں لہذا حدیث واضح ہے۔قرآن کریم فرمارہا ہے کہ خضر علیہ السلام نے ایک چھوٹے بچے کو قتل کردیا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر ماں باپ کو کافر کردیتا یہ ہے حقیقت پر فیصلہ کہ ابھی چھوٹا ہے کوئی قصور نہیں کیا مگر خضر علیہ السلام نے قتل کردیا،رب تعالٰی قیامت میں گواہیوں تحریروں پر فیصلہ فرمائے گا یہ ہے ظاہری قانون۔
۴؎یعنی میرا جو فیصلہ گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر ہوگا وہ ظاہر پر ہوگا اگر واقعہ اس فیصلہ کے خلاف ہوا اور فریق دوم کو معلوم ہو تو اس کے لیے اس فیصلہ سے وہ چیز حلال نہ ہوجائے گی،حکم حاکم حرام کو حلال نہیں کرسکتا لہذا اگر حاکم جھوٹی گواہی پر مال یا خون یا طلاق کا غلط فیصلہ کردے تو مدعی اپنے مقابل کا نہ مال لے نہ قصاص،نہ طلاق کی جھوٹی گواہی پر اس کی عورت سے نکاح کرے۔خیال رہے کہ جھوٹی گواہی وغیرہ سے جو فیصلہ ہوگا وہ فیصلہ حق ہوگا مگر اس فیصلہ میں حاکم گنہگار نہ ہوگا فریقین اور گواہ گنہگار ہوں گے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرات انبیاء کرام خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہتے رب تعالٰی انہیں مطلع فرمادیتا ہے تو اس غلط فیصلہ پر حضور قائم کیوں رہتے تھے بذریعہ وحی مطلع کیوں نہ کیے جاتے تھے کیونکہ خطاءاجتہادی فیصلہ ہی غلط ہوتا ہے اگرچہ اس غلطی پر گناہ نہیں اور یہاں فیصلہ حق ہے کیونکہ دلیل پر مبنی ہے،یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔(مرقات)
نوٹ ضروری:جن چیزوں میں حاکم و سلطان ولی ہو اپنے حکم سے نافذ کرسکتا ہو وہاں حاکم کا ایسا فیصلہ اسے حلال کردے گا لہذا اگر کنواری لڑکی کے نکاح کے جھوٹے گواہ قائم کردیئے گئے اور حاکم نے نکاح کا فیصلہ کردیا تو احناف کے نزدیک یہ فیصلہ ہی نکاح مانا جائے گا اور اس شخص کو صحبت حلال ہوگی کیونکہ حاکم لڑکی کا ولی ہے وہ نکاح اس کا کراسکتا ہے،یہ فیصلہ باطن پر ہوگا۔چنانچہ خلافت حیدری میں ایک ایسا ہی مقدمہ نکاح کا پیش ہوا مرد نے ایک عورت کے نکاح کا دعویٰ کیا عورت نے انکار کیا،مرد نے دو گواہ قائم کردیئے جناب علی نے نکاح کا فیصلہ فرمادیا عورت نے عرض کیا کہ حضور اب آپ میرا نکاح اس شخص سے ہی پڑھادیجئے تاکہ حرام سے بچوں،جناب علی نے فرمایا کہ میرا یہ فیصلہ ہی تیرا نکاح ہے۔(حواشی بخاری کتاب الحیل،ہدایہ،عینی وغیرہ) یہاں مال،خون،طلاق کے فیصلوں کا ذکر ہے جن میں حاکم ولی نہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتابنعیم الباری علی البخاریمیں ملاحظہ کیجئے جس میں دلائل سے یہ مسئلہ ثابت کیا گیا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3761