Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3761

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهٖ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيْ لَهٗ عَلٰى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهٗ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيْهِ، فَلَا يَأْخُذَنَّهٗ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهٗ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إنما أنا بشر، وإنكم تختصمون إلي، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، فأقضي له على نحو ما أسمع منه، فمن قضيت له بشيء من حق أخيه، فلا يأخذنه، فإنما أقطع له قطعة من النار، . متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں بشر ہوں ۱؎اور تم میری طرف مقدمہ لاتے ہو اور ممکن ہے کہ تمہارے بعض دوسرے کے مقابل اپنی دلیل میں زیادہ زبان آور ہو ۲؎تو میں اس کے لیے اس جیسا فیصلہ کردوں جو اس سے سنوں۳؎تو میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ کروں تو وہ اسے ہرگز نہ لے کہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خدا یا خدا کا جزء یا فرشتہ یا جن نہیں ہوں خالص انسان ہوں،یہ حصر اضافی ہے لہذا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں صرف بشرہوں نہ نبی ہوں نہ رسول،نہ نور نہ رحمۃ اللعالمین وغیرہ۔تعالٰی نے حضور کو لاکھوں صفات بخشی ہیں مگر حضور ہیں جنس بشر سے جیسے"اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ"کے معنے یہ ہیں کہتعالٰی ایک ہیالہہے دو باتیں نہیں یہ مطلب کہ وہ الوہیت اور وحدانیت کے سواء کسی صفت سے موصوف نہیں نہ کریم ہے نہ غفار نہ ستار نہ مالک الملک وغیرہ۔اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہم ہیں بشر اور بشر سے بھول،خطا اجتہادی غلطی بھی ہوسکتی ہے اور وہ دھوکا بھی دیا جاسکتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ بعض جھوٹے مدعی اپنے کو سچا ظاہر کریں ہم ان کی گواہی پر اعتماد کرکے اسے سچا مان لیں۔خیال رہے کہ حضرات انبیاء کرام گناہ بدعقیدگی اور ان کے ارادوں سے معصوم ہیں،خطا اجتہادی غلطی سے معصوم نہیں لہذا حدیث واضح ہے اور عصمت انبیاء کے خلاف نہیں۔
۲
؎الحنبنا ہےلحنسےلحنکے بہت معنے ہیں آواز،کہا جاتا ہے خوش الحان،زبان دانی،کلام کو ظاہر سے پھیرنا،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَ لَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیۡ لَحْنِ الْقَوْلِ"۔فصاحت و بلاغت،بعض معنے سے لحن اچھی چیز ہے بعض معنے سے بری یہاں بمعنی زبان دانی قدرت علی الکلام ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ جھوٹا آدمی قادر الکلام ہو اور سچا آدمی کلام پر قادر نہ ہو،جھوٹا اپنے کو سچا ظاہر کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرائے۔
۳
؎خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اکثروبیشتر فیصلے ظاہر پر ہوتے تھے نہ کہ حقیقت پر تاکہ قیامت تک امت کے حکام فیصلوں میں حضور کی اس سنت پرعمل کریں کہ امت کے پاس وحی،الہام شرعی،غیب پر اطلاع نہیں،اگر حضور انور کے فیصلے سارے الہام وغیرہ پر ہوتے تو امت کیسے عمل کرتی اور بعض فیصلے کشف والہام وحی پر بھی فرماتے تھے جیسے طعمہ ابن ابیرق کی چوری کا مقدمہ حضور نے اپنے کشف پر فرمایا رب نے فرمایا:"اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ" لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں وہاںبما اراك اﷲمیں وحی کشف والہام سب داخل ہیں کہ خدا جو آپ کو دکھائے اس پر فیصلہ فرمادیں لہذا حدیث واضح ہے۔قرآن کریم فرمارہا ہے کہ خضر علیہ السلام نے ایک چھوٹے بچے کو قتل کردیا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر ماں باپ کو کافر کردیتا یہ ہے حقیقت پر فیصلہ کہ ابھی چھوٹا ہے کوئی قصور نہیں کیا مگر خضر علیہ السلام نے قتل کردیا،رب تعالٰی قیامت میں گواہیوں تحریروں پر فیصلہ فرمائے گا یہ ہے ظاہری قانون۔
۴
؎یعنی میرا جو فیصلہ گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر ہوگا وہ ظاہر پر ہوگا اگر واقعہ اس فیصلہ کے خلاف ہوا اور فریق دوم کو معلوم ہو تو اس کے لیے اس فیصلہ سے وہ چیز حلال نہ ہوجائے گی،حکم حاکم حرام کو حلال نہیں کرسکتا لہذا اگر حاکم جھوٹی گواہی پر مال یا خون یا طلاق کا غلط فیصلہ کردے تو مدعی اپنے مقابل کا نہ مال لے نہ قصاص،نہ طلاق کی جھوٹی گواہی پر اس کی عورت سے نکاح کرے۔خیال رہے کہ جھوٹی گواہی وغیرہ سے جو فیصلہ ہوگا وہ فیصلہ حق ہوگا مگر اس فیصلہ میں حاکم گنہگار نہ ہوگا فریقین اور گواہ گنہگار ہوں گے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرات انبیاء کرام خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہتے رب تعالٰی انہیں مطلع فرمادیتا ہے تو اس غلط فیصلہ پر حضور قائم کیوں رہتے تھے بذریعہ وحی مطلع کیوں نہ کیے جاتے تھے کیونکہ خطاءاجتہادی فیصلہ ہی غلط ہوتا ہے اگرچہ اس غلطی پر گناہ نہیں اور یہاں فیصلہ حق ہے کیونکہ دلیل پر مبنی ہے،یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔(مرقات)
نوٹ ضروری:جن چیزوں میں حاکم و سلطان ولی ہو اپنے حکم سے نافذ کرسکتا ہو وہاں حاکم کا ایسا فیصلہ اسے حلال کردے گا لہذا اگر کنواری لڑکی کے نکاح کے جھوٹے گواہ قائم کردیئے گئے اور حاکم نے نکاح کا فیصلہ کردیا تو احناف کے نزدیک یہ فیصلہ ہی نکاح مانا جائے گا اور اس شخص کو صحبت حلال ہوگی کیونکہ حاکم لڑکی کا ولی ہے وہ نکاح اس کا کراسکتا ہے،یہ فیصلہ باطن پر ہوگا۔چنانچہ خلافت حیدری میں ایک ایسا ہی مقدمہ نکاح کا پیش ہوا مرد نے ایک عورت کے نکاح کا دعویٰ کیا عورت نے انکار کیا،مرد نے دو گواہ قائم کردیئے جناب علی نے نکاح کا فیصلہ فرمادیا عورت نے عرض کیا کہ حضور اب آپ میرا نکاح اس شخص سے ہی پڑھادیجئے تاکہ حرام سے بچوں،جناب علی نے فرمایا کہ میرا یہ فیصلہ ہی تیرا نکاح ہے۔(حواشی بخاری کتاب الحیل،ہدایہ،عینی وغیرہ) یہاں مال،خون،طلاق کے فیصلوں کا ذکر ہے جن میں حاکم ولی نہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب
نعیم الباری علی البخاریمیں ملاحظہ کیجئے جس میں دلائل سے یہ مسئلہ ثابت کیا گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3761