Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3550

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا رَوَاهُ ابوداود .

وعن علي: أن يهودية كانت تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه، فخنقها رجل حتى ماتت، فأبطل النبي صلى الله عليه وسلم دمها رواه ابوداود .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی بدگوئی میں مشغول رہتی تھی ۱؎تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مرگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا خون باطل فرمادیا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ وہ مدینہ منورہ میں ذمیہ ہوکر رہتی تھی مگر پھر بھی یہ حرکت کرتی تھی۔
۲
؎یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کہ ذمی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرے تو اس کا ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ حربی ہوجائے گا لہذا اس کے قتل پر نہ قصاص ہوگا نہ دیت،ہمارے ہاں اس حرکت سے ذمہ باطل نہ ہوگا کیونکہ حضور کی اہانت کفر ہے جب وہ پہلے سے ہی کافر ہے جب کہ خدا کو مانتا ہے مگر رہتا ہے ذمی تو اس کفر سے بھی ذمی ہی رہے گا،یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا اس کا قتل ذمہ ٹوٹنے کی وجہ سے نہ تھا بلکہ مسلمان کے دینی طیش کی بنا پر تھا جس بنا پر یہ حکم جاری ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3550