- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- قصاص کابیان
- حدیث نمبر 3543
باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3543
قصاص کابیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سَيَكُونُ فِي أُمَّتى اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحسِنونَ القِيلَ ويُسيئونَ الفِعلَ، يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُروقَ السَّهمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قتلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللّٰهِ، وَلَيْسُوا منَّا فِي شَيءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللّٰهِ مِنْهُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: "التَّحْلِيقُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وعن أبي سعيد الخدري وأنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "سيكون في أمتى اختلاف وفرقة، قوم يحسنون القيل ويسيئون الفعل، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية، لا يرجعون حتى يرتد السهم على فوقه هم شر الخلق والخليقة، طوبى لمن قتلهم وقتلوه، يدعون إلى كتاب الله، وليسوا منا في شيء، من قاتلهم كان أولى بالله منهم" قالوا: يا رسول الله! ما سيماهم؟ قال: "التحليق". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے اور انس ابن مالک سے وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میری امت میں بڑا اختلاف وافتراق (جدائی) ہوگا ۱؎ایک قوم ہوگی جو کلام اچھا کرے گی اور کام برے کرے گی ۲؎وہ لوگ قرآن پڑھیں گے ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۳؎دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے واپس نہ ہوں گے ۴؎حتی کہ تیر اپنے چلہ پر لوٹ آئے ۵؎وہ تمام انسانوں اور تمام مخلوق میں بدتر ہیں ۶؎خوشخبری ہے اسے جو ان لوگوں کو قتل کرے اور اسے جن کو وہ لوگ قتل کریں ۷؎کتاب اﷲکی طرف دعوت دیں گے ۸؎وہ کسی بات میں ہمارے نہیں ۹؎اور جو انہیں قتل کرے وہ بقیہ لوگوں میں سے زیادہ قریب الی اﷲہوگا ۱۰؎لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲان کی نشانی کیا ہے فرمایا سر منڈانا ۱۱؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎اختلاف سے مراد خیالات کا جدا ہونا ہے اور افتراق سے مراد جسمانی جدائی یعنی جنگ و جدال،کشت و خون یعنی میری امت میں رائے کا اختلاف بھی ہوگا اور جنگ و جدال بھی،رائے کے اختلاف میں عقائد کا اختلاف بھی داخل ہے جیسے اسلام کے بہتر فرقوں کا اختلاف اور صرف رائے کا اختلاف بھی داخل ہے جیسے حضرت علی ومعاویہ یا حضرت عائشہ و علی کا اختلاف رضی اللہ عنہم اجمعین۔ خیال رہے کہ جب حضرت علی و امیر معاویہ نے جنگ بند کرنے کے لیے دو حَکم مقرر کرلیے:حضرت ابو موسیٰ اور عمرو ابن عاص تو حضرت علی کی فوج میں سے دس ہزار آدمیوں نے سرکشی کردی بولے کہ علی اورمعاویہ دونوں مشرک ہوگئے کیونکہ انہوں نے ماسوی اﷲکو حَکم مان لیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ"حضرت علی نے ان کی فہمائش کے لیے حضرت عبداﷲابن عباس کو بھیجا آپ نے ان کے اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ رب تعالٰی زوجین کے اختلاف کے متعلق فرماتاہے:"فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَھۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھۡلِہَا"جب لڑنے والے زوجین اپنے اختلاف کو مٹانے کے لیے پنچ وحَکم مقرر کرسکتے ہیں تو اگر علی و معاویہ نے حَکم مقرر کرلیے تو کیوں شرک ہوا،اس جواب پر پانچ ہزار خارجی توبہ کر گئے پانچ ہزار ضد پر اڑے رہے جو ذوالفقار حیدری سے جہنم میں پہنچے،اس حدیث کا ظہور اس طرح ہوا۔یہ شرک شرک کا سبق آج کا نہیں بڑا پرانا ہے وہی پُرانا سبق آج وہابی پڑھ رہے ہیں۔
۲؎قوم یوجدپوشیدہ کا نائب فاعل ہے یایکونپوشیدہ کا فاعل ہےقیلاورقولدونوں کے معنے ہیں کلام و گفتگو،قرآن کریم فرماتاہے:"وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا"یعنی باتیں بہت اچھی کریں گے ہر وقتقال اﷲ وقال الرسولان کی زبان پر ہوگا مگر عقائدواعمال بہت گندے ہوں گے،اس میں اشارہ خارجی فرقہ کی طرف ہے۔فقیر نے اس بار چوتھے حج کے موقعہ پرمسجد نبوی شریف میں خارجی دیکھے،بڑے نمازی بڑے پرہیزگار معلوم ہوتے ہیں۔
۳؎یعنی ان کے دل نور قرآنی سے روشن نہ ہوں گے یا ان کی تلاوت بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہوگی کیونکہ وہ صرف لوگوں کو پھانسنے کے لیے قرآن پڑھیں گے۔تراقی ترقوۃکی جمع ہے بروزنفعلوتبمعنی گھانٹی، فارسی میں حنجرہ کہتے ہیں۔آج بھی نجدی وہابی ہر ایک کو قرآن کی طرف بلاتے ہیں،اپنی جماعتوں کتابوں کے نام تک قرآن پر رکھے ہیں اشاعۃ القرآن،تعلیم القرآن،ان کے اکثر علماءومبلغین سر منڈے ہوتے ہیں۔
۴؎یعنی پہلے وہ مسلمان ہوں گے بعد میں اسلام سے ایسے نکلیں گے ان میں اسلام کا کوئی اثرونشان نہ باقی رہے گا جیسے تیر شکار میں سے کہ شکار کے جسم میں داخل ہوکر نکل جاتا ہے مگر اس میں گوشت،خون،گوبر،پیشاب وغیرہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔
۵؎یعنی جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر کمان پر واپس نہیں آتا آگے ہی کو جاتا ہے ایسے ہی یہ لوگ اسلام میں واپس نہیں آئیں گے اس کی آزمائش بھی ہوچکی کہ جو پختہ خارجی ہوگئے تھے وہ شمشیر حیدری سے تہ تیغ ہوئے بقیہ تتر بتر ہوگئے مگر دوبارہ اسلام میں نہ آئے۔جو پانچ ہزار حضرت ابن عباس کا وعظ سن کر بولے وہ خارجی پختہ نہ ہوئے تھے بلکہ خوارج کے بہکانے سے وہم و شبہات میں پڑگئے تھے لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے۔
۶؎یا تو خلق سے مراد انسان اور خلیقہ سے مراد جانور ہیں یا دونوں ہم معنے ہیں تاکیدًا دو لفظ ارشاد ہوئے۔ معلوم ہوا کہ بے دین تمام مخلوق سے بدتر ہے حتی کہ کتے سور گدھے سے بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"جیسے کہ مؤمن کامل تمام مخلوق حتی کہ فرشتوں سے بھی اعلیٰ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ھُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ"۔
۷؎یعنی جو مسلمان ان خوارج کو قتل کرے وہ بہترین غازی ہے اور جو جنگ میں ان کے ہاتھوں شہید ہو وہ اعلیٰ درجہ کا شہید ہے۔
۸؎یعنی یا تو حدیث کے منکر ہوں گے صرف قرآن کو ماننے کے مدعی ہوں گے یا اگرچہ دعویٰ تو کریں گے حدیث ماننے کا بھی مگر ہر وقت پڑھیں گے قرآن ہی اور ہر ایک کو قرآن کے نام پر بلائیں گے جیسے اس زمانے کے کچھ وہابی دیوبندی جو قرآن قرآن کی رٹ لگاتے ہیں۔
۹؎یعنی ان کو ہم سے اور ہم کو ان سے کوئی تعلق نہیں اور ظاہر ہے کہ جس کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ٹوٹ جائے وہ قرآن یا نماز وغیرہ کے ذریعہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔فسٹ کلاس کا ڈبہ بغیر انجن سے تعلق رکھے سفر نہیں کرسکتا نہ اس کی کچھ قدروقیمت ہے نہ اس میں کوئی مسافر بیٹھتا ہے،قدرو قیمت تو انجن کے ساتھ مل جانے کی ہے۔
۱۰؎یعنی دوسرے مسلمانوں سے یہ زیادہ مقبول ہوگا۔
۱۱؎یعنی بہت زیادہ سرمنڈانا اور سرمنڈانے کا عادی ہونا ورنہ حج میں قریبًا سارے حاجی سرمنڈاتے ہیں،بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ وہ سرمنڈانے کی عادت کو برا سمجھتے ہیں ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3543