Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3535

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "سَيَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ حُدَّاثُ الأَسْنَانِ،سُفَهَاءُ الأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قتلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "سيخرج قوم في آخر الزمان حداث الأسنان،سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول البرية، لا يجاوز إيمانهم حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، فأينما لقيتموهم فاقتلوهم، فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آخر زمانہ میں قوم نکلے ۱؎گی نو عمر عقل کے ہلکے ۲؎کلام کریں گے مخلوق کے قول کے بہترین سے۳؎ان کا ایمان ان کے گلے سے نہ اترے گا۴؎دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۵؎تو تم انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کردو ۶؎کہ ان کے قتل میں قیامت کے دن ثواب ہے اسے جو انہیں قتل کرے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا آخر زمان سے مراد خلافت راشدہ کا آخری دور ہے اور اس قوم سے مراد خوارج ہیں کیونکہ خوارج حضرت علی کی خلافت میں پیدا ہوئے اور ہوسکتا ہے کہ آخر زمانہ سے مراد قریب قیامت ہو اور اس قوم سے مراد وہابی ہوں کہ ان کا خروج بارہویں صدی میں ہوا،علامہ شامی نے وہابیوں کو خوارج فرمایا ہے یہ بھی قریبًا خوارج ہیں۔
۲
؎یعنی ان میں اکثر نو عمرلڑکے عقل کے کوتاہ ہوں گےحدثاءجمع ہےحدیثکی بمعنی نیا اورسفہاءجمع ہےسفیہکی بمعنی ہلکا پن یا بے عقلی جیسےصغیرکی جمعصغراءہے۔
۳
؎یعنی مخلوق جو بہترین کلام بولتی یا پڑھتی ہے وہ کلام کیا کریں گے یعنی قرآن مجید بہت پڑھیں گے ہر ایک کو دعوت قرآن دیں گے۔ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہےمن قول خیر البریہاس صورت میںخیر البریہسے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور آپ کے قول سے مراد حدیث شریف وقرآن مجید دونوں ہیں یعنی ہر ایک کو کتاب و سنت کی طرف دعوت دیں گے اورقال اﷲ قال الرسولان کی زبان پر رہے گا۔(مرقات)حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ خوارج بدترین خلق ہیں یہ بدنصیب کفار کی آیات مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں،دیکھو بخاریباب الخوارجاور مرقات یہ ہی مقام۔آج دیوبندیوں وہابیوں کی تقریریں تحریریں دیکھو کہ یہ لوگ ہمیشہ بتوں کی آیات حضرات انبیاء اولیاء پر چسپاں کرتے ہیں اور کفارومشرکین کی آیات مسلمانوں پر پڑھتے ہیں۔
۴
؎یعنی کلمہ اور اسلام ان کے صرف منہ میں ہوگا دل میں کفر اورحضرات انبیاءواولیاء اور تمام مسلمانوں سے عنادوبغض بھرا ہوگا،حناجرجمع ہےحنجرہکی بمعنی حلقوم۔
۵
؎دین سے مراد اسلام ہے نہ کہ محض طاعت بادشاہ یعنی جيس شکاری کا تیر شکار کے جسم میں داخل ہوکر ایسے نکل جاتا ہے کہ اس میں خون،گوشت،چربی کچھ بھی نہیں لگا ہوتا بالکل صاف ہوتا ہے ایسے ہی یہ لوگ دعویٰ اسلام کے باوجود اسلام سے ایسے نکل جائیں گے کہ ان کے دلوں میں اسلام کا شائبہ بھی نہ ہوگا۔اکی پناہ!
۶
؎یا اس لیے قتل کردو کہ وہ مرتد ہیں یا اس لیے کہ وہ سلطان اسلام کے باغی ہیں مگر یہ قتل شاہ اسلام کرے گا نہ کہ عام مسلمان۔ کسی نے حضرت علی سے پوچھا کہ کیا خوارج کافر ہیں فرمایا وہ کفر ہی سے تو بھاگتے ہیں پوچھا کہ کیا یہ منافق ہیں ؟فرمایا منافق لوگ ذکر اکم کرتے ہیں پوچھا پھر ہم انہیں کیا کہیں؟ فرمایا فتنہ میں مبتلا ہوکر بہرے گونگے ہوگئے۔
۷
؎معلوم ہوا کہ خوارج،باغی،مرتد کاقتل جائز ہی نہیں بلکہ کار ثواب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3535