Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3548

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يَفْتِكُ مُؤمنٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ایمان شب خونی سے آڑ ہے مؤمن اچانک نہیں مارتا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمان کسی کو بغیر تحقیق کیے اچانک نہیں قتل کرتا اسلام اس سے منع فرماتا ہے پہلے تحقیق کرلے کہ مؤمن ہے یا کافر اور اگر کافر ہے تو ذمی یا مستامن یا حربی،جب پتہ لگ جائے کہ حربی کافر ہے تب اسے قتل کرتا ہے۔خیال رہے کہ اگر پہلے سے کسی کا کافر حربی ہونا معلوم ہو اور اسے قتل کی خبر دینے میں نقصان ہو تو اچانک قتل جائز ہے جیسے کعب ابن اشرف اورابو رافع وغیرہ کا قتل، یہاں نفی بمعنی نہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3548