Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3544

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ! إِلَّا بإِحْدَى ثَلَاثٍ: زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ فإِنَّهُ يُرجَمُ، وَرَجُلٌ خرَجَ مُحارِبًا للَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الأَرْضِ، أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله! إلا بإحدى ثلاث: زنا بعد إحصان فإنه يرجم، ورجل خرج محاربا لله ورسوله فإنه يقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض، أو يقتل نفسا فيقتل بها". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کسی اس مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اکے سوا کوئی معبود نہیں اور حضور محمد مصطفے اکے رسول ہیں ۱؎مگر تین جرموں میں سے ایک کی وجہ سے نکاح کے بعد زنا کہ وہ سنگسار کیا جائے گا ۲؎اور وہ شخص جو ارسول سے جنگ کرنے نکلا۳؎وہ یا قتل کیا جائے گا یا سولی دیا جائے گا یا زمین سے نکال دیا جائے گا۴؎یا کسی جان کو قتل کردے تو اس کے عوض قتل کیا جائے ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس کلمہ خوانی سے مراد تمام عقائد اسلامیہ کا ماننا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میںالحمدﷲپڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۃولا الضالینتک پڑھنا واجب ہے ورنہ صرف کلمہ تو قادیانی ،چکڑالوی اور تمام باطل فرقے بھی پڑھتے ہیں۔
۲
؎یہاںاحصانکے معنی ہیں آزاد بالغ مسلمان کا صحیح نکاح کے ذریعہ صحبت کرلینا یہ رجم کے لیے شرط ہے لہذا کافر اور نابالغ اور غلام اور کنوارے زانی کو سنگسار نہیں کیا جاسکتا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بعض یہود کو زنا کی بنا پر سنگسار کرانا ان پر توریت کا حکم جاری فرمانے کے لیے تھا نہ کہ اسلامی حکم کی بنا پر۔
۳
؎اس سے مراد ڈاکو ہیں یا باغی،رب تعالٰی ڈاکوؤں کے متعلق فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا
۴
؎اگر ڈاکو صرف قتل کرے کسی کا مال نہ لے تو قتل کیا جائے گا اور اگر قتل بھی کرے مال بھی لوٹے تو سولی دیا جائے گا اور اگر صرف مال لوٹے قتل نہ کرے تو دیس نکالے کی سزا دی جائے گی یعنی کالا پانی یا آج پاکستان میں کالا باغ۔بعض نے فرمایا کہ اگر ڈاکو قتل و لوٹ نہ کرسکے صرف لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا راستہ روکتا پکڑا جائے تو اس کو کسی شہر یا گاؤں میں ٹھہرنے نہ دیا جائے گا یوں ہی آوارہ گرد رکھا جائے گا حتی کہ مرجائے یا صحیح توبہ کرلے،بعض نے فرمایا کہ امام کو ان چاروں سزاؤں کا اختیار ہے ان میں سے جو چاہے دے۔(مرقات واشعہ)
۵
؎یہاں قتل سے مراد قتل عمد ہے کیونکہ قصاص صرف قتل عمد میں ہے قتل خطاء یا قتل شبہ عمد میں قصاص نہیں صرف دیت ہے جیساکہ گزر چکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3544