- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- قصاص کابیان
- حدیث نمبر 3553
باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3553
قصاص کابیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ شَريكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِيْتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنيَّ وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنَيَّ: أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَمَهُ، فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ، وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ، رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ: وَاللّٰهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي، ثُمَّ قَالَ: يخرُجُ فِي آخرِ الزَّمانِ قَوْمٌ كَأَنَّ هَذَا مِنْهُم، يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ، حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
وعن شريك بن شهاب قال: كنت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب النبي أسأله عن الخوارج، فلقيت أبا برزة في يوم عيد في نفر من أصحابه، فقلت له: هل سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يذكر الخوارج؟ قال: نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بأذني ورأيته بعيني: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بمال فقسمه، فأعطى من عن يمينه ومن عن شماله، ولم يعط من وراءه شيئا. فقام رجل من ورائه فقال: يا محمد ما عدلت في القسمة، رجل أسود مطموم الشعر، عليه ثوبان أبيضان، فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم غضبا شديدا وقال: والله لا تجدون بعدي رجلا هو أعدل مني، ثم قال: يخرج في آخر الزمان قوم كأن هذا منهم، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية، سيماهم التحليق، لا يزالون يخرجون، حتى يخرج آخرهم مع المسيح الدجال، فإذا لقيتموهم هم شر الخلق والخليقة. رواه النسائي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت شریک ابن شہاب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں آرزو کرتا تھا کہ کسی صحابی رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کروں اور ان سے خارجیوں کے متعلق پوچھوں ۲؎میں عید کے دن ابوبرزہ سے ان کے ساتھیوں کی جماعت میں ملا ۳؎میں نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو خارجیوں کے متعلق کچھ ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے ۴؎فرمایا ہاں میں نے حضور کو اپنے کانوں سے فرماتے اور اپنی آنکھوں سے حضور کو دیکھا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ مال لایا گیا ۵؎آپ نے وہ مال تقسیم فرمایا تو اپنے داہنے بائیں والوں کو دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہ دیا ۶؎تو آپ کے پیچھے سے ایک شخص کھڑا ہوا بولا اے محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)آپ نے تقسیم میں انصاف نہ کیا ۷؎یہ کالا شخص تھا منڈے ہوئے بال اس پر دو سفید کپڑے تھے ۸؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سخت ناراض ہوئے ۹؎اور فرمایا کہ تم لوگ میرے سوا مجھ سے زیادہ عادل شخص کوئی نہ پاؤ گے ۱۰؎پھر فرمایا آخر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی شاید یہ بھی ان میں سے ہے ۱۱؎جو قرآن بہت پڑھیں گے جو ان کے گلے سے نہ اترے گا اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۱۲؎ان کی علامت سر منڈانا ہے ۱۳؎یہ نکلتے ہی رہیں گے ۱۴؎حتی کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجّال کے ساتھ نکلے گا ۱۵؎تو جب تم ان سے ملو تو جان لو کہ یہ بدترین مخلوق ہیں ۱۶؎(نسائی)
شرح حدیث
۱∞؎ایک غیر مشہور تابعی ہیں،بصری ہیں،حرثی ہیں،آپ سے صرف ایک یہ حدیث مروی ہے،آپ سے ازرق ابن قیس نے روایت کی۔
۲؎کہ اس فرقہ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا فرمایا کیونکہ اس زمانہ میں یہ فرقہ نمودار ہوا تھا اس کی تردید کے لیے اس قسم کی احادیث کی ضرورت تھی۔
۳؎ابو برزہ کا نام نصلہ ابن عبید ہے،اسلم قبیلہ سے ہیں،پرانے صحابہ سے ہیں،فتح مکہ کے دن ابن خطل کو آپ نے ہی قتل کیا حضور کی وفات تک حضور کے ساتھ رہے،سرکار عالی کی وفات کے بعد بصرہ میں رہے پھر فتح خراسان میں شرکت فرمائی، ۶۰ھ ∞ میں مقام مرو میں وفات پائی،اس وقت حضرت ابوبرزہ کے ساتھ ان کے ہمرا ہی تھے جو تابعین سے تھے صرف آپ صحابی تھے باقی حضرات صحابی نہ تھے۔(مرقات)
۴؎مقصد یہ ہے کہ آپ خوارج کے متعلق وہ حدیث مجھے سنا دیں بذات خود آپ نے جو سنی ہو تاکہ کچھ اس سے پوری تسلی تشفی ہو۔
۵؎یا مال غنیمت یا کسی جگہ سے ٹیکس وغیرہ کا مال جو قابل تقسیم تھا۔
۶؎شاید پیچھے والوں کو اس تقسیم میں حصہ نہ دینا اس لیے تھا کہ اس سے ان کا حال ظاہر ہوجائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جیساکہ آگے آرہا ہے۔
۷؎کیونکہ اس مال میں سب کا حصہ تھا آپ نے بعض کو دیانعوذ باﷲ!۸؎مطمومبنا ہےطمسے بمعنی جڑ سے اکھیڑ دینا،اس سے مراد ہے منڈے ہوئے بال۔(اشعہ و مرقات) سفید کپڑے فرماکر اس کا ظاہر صاف باطن گندا تھا کہ کپڑے سفید تھے دل و دماغ سیاہ تھا۔(مرقات)شعر
تن اُجلا من کالا بگلے کے سے بھیک اس سے تو کانگا بھلے کہ باہر بھیتر ایک
اﷲتعالٰی دل سفید نصیب کرے۔
۹؎مگر اس کے باوجود بہت تحمل فرمایا کہ نہ اس کے قتل کا حکم دیا نہ اس پر کوئی اور سختی فرمائی ورنہ یہ مرتد لائق قتل تھا کیونکہ حضور اقدس کے کسی فعل کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور آپ پر ظلم کا اتہام لگانا کفر ہے اس کو قتل نہ کرنے کی وجہ آگے آرہی ہے۔
۱۰؎یہاںبعدبمعنی سواء ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور سے بڑھ کریا حضور کے برابر عادل نہ حضور کے زمانہ میں تھا نہ بعد۔
۱۱؎حضور کا یہ شاید فرمانا یقین کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا"یعنی یہ ان لوگوں کے سرداروں امیروں میں سے ہے۔
۱۲؎جو لوگ خوارج کو کافر نہیں کہتے صرف گمراہ کہتے ہیں وہ یہاں اسلام کے معنے کرتے ہیں سلطان کی اطاعت مگر یہ ضعیف ہے کیونکہ دوسری روایت میں بجائے اسلام کے دین ارشاد ہوا ہے یعنی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شرکار سے،اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔
۱۳؎خدا کی پناہ ہر جگہ خوارج کی پہچان سر منڈانا ارشاد ہوئی جیساکہ پہلے گزر چکا۔
۱۴؎اور دنیا میں فساد پھیلاتے ہی رہیں گے یہ کبھی فنا نہ ہوں گے اور ان کی فساد انگیزی ختم نہ ہوگی۔ (مرقات)
۱۵؎یعنی یہ ہمیشہ مسلمانوں سے لڑتے رہیں گے اور کفارومشرکین کے ساتھی رہیں گے حتی کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھی اس کے حمایتی یہ ہی لوگ ہوں گے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیش گوئی اب تک ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہابیوں کے حملے ہمیشہ مسلمانوں پر ہوئے اور کانگریس کے حمایتی ہندوؤں کے دوست ہمیشہ یہ ہی حضرات رہے،نجدیوں نے مسلمانوں بلکہ صحابہ کرام اہل بیت عظام کی قبور ڈھادیں مگر جواہر لعل نہرو کو رسول السلامۃ کا خطاب دیا،اس کی اور گاندھی کی شان میں عربی کتابیں لکھیں چھاپیں اور حرمین طیبین میں درسًا پڑھائیں۔خبر ملی ہے کہ یوپی میں بریلی میں ایک وہابی صاحب نے ہندوؤں کے لیے مندر تعمیرکرایا ہے جس پر اپنی جیب سے قریبًا اسی۸۰ ہزار روپیہ خرچ کیا ہے،پاکستانی اخبارات نے یہ خبر چھاپی،ان بزرگوں کو شرک سے ظاہری نفرت مگر مشرکوں سے محبت ہے،یہ ہے اس حدیث پاک کا ظہور۔
۱۶؎فاذاکی خبر یا توفاعلموایافاقتلواہے جیساکہ دوسری احادیث میں وارد ہے۔خیال رہے کہ یا توخلقاورخلیقہایک ہی معنے میں ہیں یاخلقسے مراد انسان ہیں اورخلیقہسے مراد دوسری مخلوق یعنی یہ لوگ تمام مخلوق سے بدترین ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"اُولٰٓئِکَ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3553