- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 41
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 41
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهٗ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُم، فَبَيْنَا أَنا جَالِسٌ مَنْ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَشْعُرْ بِهِ، فَاشْتَكَى عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا-، ثُمَّ أَقْبَلَا حَتَّى سَلَّمَا عَلَيَّ جَمِيعًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا حَمَلَكَ ألَّا تَرُدَّ عَلَى أَخِيكَ عُمَرَ سَلامَهُ؟ قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلٰى، وَاللّٰهِ لَقَدْ فَعَلْتَ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ، قَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ، فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: تَوَفَّى اللّٰهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا،قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا [عَلَيَّ]؛ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
وعن عثمان رضي الله عنه قال: إن رجالا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي حزنوا عليه، حتى كاد بعضهم يوسوس، قال عثمان: وكنت منهم، فبينا أنا جالس من مر علي عمر وسلم فلم أشعر به، فاشتكى عمر إلى أبي بكر رضي الله عنهما-، ثم أقبلا حتى سلما علي جميعا، فقال أبو بكر: ما حملك ألا ترد على أخيك عمر سلامه؟ قلت: ما فعلت، فقال عمر: بلى، والله لقد فعلت، قال: قلت: والله ما شعرت أنك مررت ولا سلمت، قال أبو بكر: صدق عثمان، قد شغلك عن ذلك أمر، فقلت: أجل، قال: ما هو؟ قلت: توفى الله تعالى نبيه صلى الله عليه وسلم قبل أن نسأله عن نجاة هذا الأمر، قال أبو بكر: قد سألته عن ذلك، فقمت إليه وقلت له: بأبي أنت وأمي أنت أحق بها،قال أبو بكر: قلت: يا رسول الله ما نجاة هذا الأمر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قبل مني الكلمة التي عرضت على عمي فردها [علي]؛ فهي له نجاة". رواه أحمد.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو حضور کے صحابہ میں سے بعض حضرات اس قدر غمگین ہوئے کہ بیماری وہم میں مبتلا ہونے کے قریب ہوگئے ۱؎حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ میں بھی ان میں تھا ایک میں بیٹھا تھا کہ عمر فاروق گزرے مجھے سلام کہا لیکن مجھے مطلقًا شعو ربھی نہ ہوا ۲؎جناب عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر سے میری شکایت کی۳؎پھر وہ دونوں حضرات میرے پاس تشریف لائے اور دونوں نے مجھے سلام کیا۴؎ابوبکر نے مجھ سے فرمایا کہ کیا باعث ہوا کہ تم نے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہ دیا میں نے کہا میں نے تو ایسا نہ کیا عمر بولے ۵؎خدا کی قسم تم نے یہ کیا میں نے کہا خدا کی قسم مجھے نہ یہ خبر کہ تم گزرے نہ یہ کہ تم نے مجھے سلام کیا ۔ابوبکر صدیق نے فرمایا عثمان سچے ہیں اے عثمان تمہیں کسی الجھن نے پھنسالیا ۶؎اس سے بے خبر کردیا میں نے کہا ہاں فرمایا وہ الجھن کیا ہے میں نے کہا کہ الله نے اس سے پہلے ہی اپنے نبی کو وفات دے دی کہ ہم حضور سے اس چیز کی نجات کے متعلق پوچھیں ۷؎ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق حضور سے پوچھ لیا ہے ۸؎میں آپ کی خدمت میں کھڑا ہوگیا ۹؎اور کہا اے ابوبکر تم پر میرے ماں باپ فدا یہ تمہارا ہی حق ہے ۱۰؎ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یارسول الله اس چیز کی نجات کیسے ہوگی ۱۱؎حضور نے فرمایا جو میری وہ بات مان لے جو میں نے اپنے چچا پر پیش کی تھی ۱۲؎انہوں نے رَد کردی تھی۱۳؎تو یہ بات اس کی نجات ہے۔(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی زیادتی غم کی وجہ سے وہم کی بیماری ہوگئی،مت کٹ گئی،عقل ٹھکانے نہ رہی یا یہ وسوسہ دل میں آنے لگا کہ اسلام کیسے باقی رہے گا اس کا والی چلا گیا،قافلہ ٔ سالار رخصت ہوگیا،اب یہ قافلہ کیسے سنبھلے گا۔یہ تمام خیالات غیر اختیاری تھے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر رنج و غم سنت صحابہ ہے،مگر پیٹنا ماتم کرنا ممنوع ہے۔
۲؎یعنی عمر فاروق نے بآواز بلند سلام کیا مگر میرے کان میں ان کی آواز نہ پہنچی۔زیادتی غم میں سامنے رکھی چیز نظر نہیں آتی۔
۳؎کیونکہ آپ یہ سمجھتے تھے کہ شاید حضرت عثمان مجھ سے ناراض ہیں۔اس لئے انہوں نے سلام کا جواب اتنا آہستہ دیا کہ میں نہ سن سکا۔یہ خیال نہ کیا کہ جواب ہی نہ دیا کیونکہ جوابِ سلام فرض ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم کے سامنے کسی کی شکایت کرنا خصوصًا بغرض اصلاح غیبت نہیں،بلکہ سنت صحابہ ہے۔
۴؎جناب عمر تو منانے کی نیت سے آئے اور حضرت صدیق اصلاح کے ارادے سے۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی شکایت سن کر دل پر نہ رکھ لے بلکہ دور کرنے کی کوشش کی جائے اگر چہ جماعت میں سے ایک کا سلام کرنا کافی ہوتا ہے۔لیکن یہاں موقع ہی ایسا تھا کہ دونوں نے الگ الگ سلام کیا یا یہ دونوں حضرات آگے پیچھے عثمان غنی کے پاس گئے ہوں گے۔
۵؎یعنی نہ مجھ پر یہ گزرے،نہ مجھے سلام کیا،اور نہ میں نے ان کے جواب میں کوتاہی کی،یہ جھوٹ نہیں بلکہ اپنے علم کی بنا پر ہے۔
۶؎یعنی تم کچھ سوچ رہے تھے جس کی وجہ سے نہ دیکھ سکے نہ سن سکے تم دونوں سچے ہو۔
۷؎چیز سے مراد یا تو دین ہے یعنی دین اسلام میں دوزخ سے نجات کا مدار کس چیز پر ہے،اگرچہ عثمان غنی خود ہی روایت فرما چکے ہیں کہ نجات کا مدار کلمہ طیبہ ہے،اس رنج و غم میں اپنی روایت خود بھول گئے،یا چیز سے مراد وسوسۂ شیطانی ہے،کبھی ہمارے دلوں میں بڑے خراب خیالات آتے ہیں۔ایسا کون سا عمل کیا جائے گا جس کی برکت سے یا تو وسوسہ سے ہی نجات ملے یا اس کے نتیجہ سے یہی ظاہر ہے۔
۸؎اور مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی یاد ہے۔
۹؎یعنی خوشی کی وجہ سے معلوم ہوا کہ خوشی کی خبر سن کر کھڑا ہوجانا سنت عثمانی ہے۔بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ زہرا کو دیکھ کر خوشی میں کھڑے ہوجاتے تھے۔لہذا میلاد شریف میں ذکر ولادت پر کھڑا ہوجانا سنت سے ثابت ہے،یہ قیام فرحت و سرور ہے یہ اس کا مأخذ،اسے حرام نہیں کہہ سکتے۔
۱۰؎یعنی تم جیسے بزرگوں کے ہی لائق تھا کہ ایسی باتیں حضور سے پوچھ کر ہم تک پہنچاتے کیونکہ تم علم پر حریص ہو۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب اسرار ہو۔
۱۱؎یعنی شیطانی وسوسہ یا اس کے نتیجہ سے ہم کیسے بچیں یادینی چیزوں میں نجات کا مدار کس چیز پر ہے۔
۱۲؎چچا ابو طالب پر ہمیشہ ہی کلمہ طیبہ پیش فرمایا،خصوصیّت سے ان کی وفات کے وقت حضور نے فرمایا چچا اب بھی پڑھ تو نجات پاؤ گے۔خیال رہے کہ ابو طالب حضور کی حقانیت کے قائل تھے۔انہوں نے حضور کی بڑی خدمتیں کیں مگر زبان سے کلمہ نہ پڑھا اس لیے انہیں شرعًا مسلمان نہیں کہاجاسکتا۔
۱۳؎یعنی زبان سے نہ پڑھا تھا۔اگرچہ دل سے اقرار تھا ابو طالب کا کلمہ نہ پڑھنا حضور کی حفاظت کی نیت سے تھا اس وجہ سے کہ کفار مکہ میرا لحاظ کریں اور میرے لحاظ سے حضور کو نہ ستائیں،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو طالب کی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑنے پر مجبور نہ ہوئے،ان کی وفات کے بعد ہی ہجرت کرنا پڑی۔ایمان ابی طالب کی بحث ہماری کتاب تفسیر نعیمی میں دیکھو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 41