Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 43

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبّهٍ قِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَيْسَ مِفْتَاحٌ إِلَّا لَهُ أَسْنَانٌ، فَإِنْ جِئْتَ بِمِفْتَاحٍ لَهُ أَسْنَانٌ فُتِحَ لَكَ، وَإِلَّا لَمْ يُفْتَحْ لَكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَة بَابٍ.

وعن وهب بن منبه قيل له: أليس لا إله إلا الله مفتاح الجنة؟ قال: بلى، ولكن ليس مفتاح إلا له أسنان، فإن جئت بمفتاح له أسنان فتح لك، وإلا لم يفتح لك. رواه البخاري في ترجمة باب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وہب ابن منبہ سے ۱؎کہ ان سے عرض کیا گیا کہ کیا کلمہلا الہ الا ﷲجنت کی چابی نہیں ۲؎فرمایا ہاں ہےلیکن کوئی چابی دندانہ بغیر نہیں ہوتی ۳؎تو اگر تم دندانہ والی چابی لے کر آؤ گے تو تمہارے لئے دروازہ کھلے گا ورنہ نہ کھلے گا ۴؎(بخاری ترجمہ باب)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابو عبدﷲ ہے،وطن فارس،قیام گاہ یمن کا علاقہ صنعاء ہے،آپ جلیل القدر تابعی ہیں،یمن کے قاضی تھے، ۱۱۴ ھمیں وفات پائی،حضرت جابر اور ابن عباس سے ملاقات اور سماعت ثابت ہے۔
۲
؎مسلمانوں میں ایک فرقہ مرجیہ تھا جن کے نزدیک عمل کی کوئی ضرورت نہ تھی،اسلام لا کر بدترین گناہ بھی برا نہ جانتے تھے۔سائل ان میں سے کوئی تھا۔منشاءسوال یہ ہے کہ جب کلمہ طیّبہ جنت کی چابی ہے تو نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے۔
۳
؎سبحان اللّٰہ!کیا نفیس مثال ہے،یعنی کلمہ طیبہ چابی کی ڈنڈی ہے اور ارکان اسلام روزہ نماز وغیرہ اس کے دندانےجیسے چابی میں دانتوں کی ضرورت ہے ایسے ہی مسلمان کے لئےٍ ارکان اربعہ ضروری ہیں۔
۴
؎یعنی بد عمل مسلمان اوّلًا جنت میں نہ جائے گا۔"اِلَّا اِن یَّشَاءَ ﷲ"۔اس مسئلے کی تحقیق پہلے ہوچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 43