Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 23

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللّٰهِ يَدْعُوْنَ لَهُ الْوَلَدَ ثُمَّ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما أحد أصبر على أذى يسمعه من الله يدعون له الولد ثم يعافيهم ويرزقهم»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

اور روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تکلیف دہ بات کو سنتے ہوئے صبر کرنے والا ۱؎خدا سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کے لئے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں پھر بھی وہ انہیں راحت و رزق دیئے جاتا ہے۲؎(بخاری ، مسلم )

شرح حدیث

۱∞؎یہاں صبر سے مراد حلم ہے۔اسی معنی سے الله تعالٰی کا نام پاکصبوریاصبارہے،نہ کہ وہ صبر جو کہ مجبوری کی وجہ سے ہو اس کی تفسیر اگلا مضمون ہے۔
۲
؎یعنی باوجود یہ کہ لوگ الله تعالٰی کو عیب لگاتے ہیں اور رب تعالٰی اس سے خبردار بھی ہے،ان پر ہر طرح قادر بھی لیکن انہیں فورًا عذاب نہیں دیتا،بلکہ دنیا میں انہیں تندرستی،امن،روزی دیتا ہے کیونکہ دنیا اس کی رحمانیت کے ظہور کی جگہ ہے۔بعد موت نہ انہیں امن دے،نہ روزی وغیرہ وہاں اس کی رحیمیت کی جلوہ گری ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 23