Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 48

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: «أَنْ تُحِبَّ لِلّٰهِ وَتُبْغِضَ لِلّٰهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللهِ قَالَ وَمَاذَا يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ وَأَنْ تُحِبَّ لِلْنَّاسِ مَا تُحِّبُ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن معاذ أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن أفضل الإيمان قال: «أن تحب لله وتبغض لله وتعمل لسانك في ذكر الله قال وماذا يا رسول الله قال وأن تحب للناس ما تحب لنفسك وتكره لهم ما تكره لنفسك» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

انہیں سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل ایمان کے متعلق ۱؎پوچھافرمایا یہ ہے کہ تم اللہ کے لئے محبت و عداوت کرو اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں مشغول رکھو ۲؎عرض کیا اور کیا یارسول اللہ؟ فرمایا کہ لوگوں کے لئے وہ ہی پسند کرو جو اپنے لئے چاہتے ہو اور ان کے لئے وہ ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مؤمن کا کون سا حال اور کونسی خصلت بہتر ہے جیسا کہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔
۲
؎تاکہ ذکر کی برکت زبان تک پہنچے اور اس سے ایمان کوقوت حاصل ہو جو زبان ذکر اللہ سے تر رہے گی۔وہان شاء اللہدوزخ کی آگ سے نہ جلے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 48