- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 17
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 17
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامٰى قَالُوا يَا رَسُول الله إِنَّا لَا نَسْتَطِيْعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرُ بِهٖ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ قَالَ «أَتَدْرُوْنَ مَا الْإِيمَانُ بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ» قَالُوا: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوْا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ»
وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ:«اِحْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ للْبُخَارِيِّ
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال إن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من القوم أو من الوفد قالوا ربيعة قال مرحبا بالقوم أو بالوفد غير خزايا ولا ندامى قالوا يا رسول الله إنا لا نستطيع أن نأتيك إلا في الشهر الحرام وبيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر فمرنا بأمر فصل نخبر به من وراءنا وندخل به الجنة وسألوه عن الأشربة فأمرهم بأربع ونهاهم عن أربع أمرهم بالإيمان بالله وحده قال «أتدرون ما الإيمان بالله وحده» قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: «شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تعطوا من المغنم الخمس»
ونهاهم عن أربع: عن الحنتم والدباء والنقير والمزفت وقال:«احفظوهن وأخبروا بهن من وراءكم»(متفق عليه) ولفظه للبخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ۱؎فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ وفد ۲؎جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون قوم یا کون وفد ہو عرض کیا ہم ربیعہ ہیں ۳؎فرمایا یہ وفد یا قوم خوب اچھے آگئے کہ نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ۴؎عرض کیا یارسول الله ہم آپ تک صرف محترم مہینہ میں آسکتے ہیں ۵؎کیونکہ ہمارے آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے ۶؎لہذا ہمیں فیصلہ کُن خبر فرمادیں جس کی خبر ہم اپنے پیچھے والوں کوبھی دے دیں اور ہم جنت میں بھی پہنچ جائیں ۷؎انہوں نے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے انہیں چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ الله پر ایمان لانے کا حکم فرمایا کیا جانتے ہوصرف الله پر ایمان لانا کیا ہے وہ بولے الله اور رسول جانیں ۸؎فرمایا یہ گواہی دینا کہ الله کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد الله کے رسول ہیں ۹؎اور نماز قائم رکھنے زکوۃ دینے رمضان کے روزے کا ۱۰؎اور فرمایا کہ غنیمت میں سے پانچواں حصہ حاضرکرو ۱۱؎اور چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا سے،تونبی سے،لکڑی کی دوری سے اور تارکول والے پیالے سے ۱۲؎فرمایا یہ خود بھی یاد کرلو دوسروں کو اس کی خبر دے دو ۱۳؎(مسلم و بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام عبد الله ابن عباس ابن عبدالمطلب ہے،حضور کے چچازادہیں،آپ کی والدہ لبابہ بنت حارث یعنی امیرالمؤمنین میمونہ کی ہمشیرہ ہیں،آپ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،جب تیرہ سالہ تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،آپ کا لقب حبرامت ہے یعنی امت اسلامیہ کے بڑے عالم،تفسیر قرآن کے امام ہیں،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، ۶۸ھمیں بمقام طائف ۷۱ برس عمر شریف میں وصال ہوا،طائف میں مزار شریف ہے فقیر نے زیارت کی ہے۔
۲؎وفدقوم کے وہ نمائندے کہلاتے ہیں جو اپنی قوم کی طرف سے سلطان یا امیر کی خدمت میں کچھ پیام سلام لے کر حاضر ہوں یا ان کی طرف سے عہد وفاداری کریں۔یہ چودہ حضرات تھے جو قبیلہ عبدالقیس کی طرف سے ایمان لائے اورحضورسے احکام اسلام معلوم کرنےحاضرہوئے تھے یہ قبیلہ بحرین،قطیف،ہجروغیرہ بستیوں میں آباد تھا،عبدالقیس ان کے جد کا نام تھا۔جن کا سلسلہ نسب ربیعہ ابن نزار ابن معدابن عدنان تک پہنچتا ہے،اس لیے اس قبیلہ کو عبدالقیس بھی کہتے ہیں اور ربیعہ بھی۔
۳؎یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لئے ہے حضور تو واقف تھے۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ یہ وفد جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو حضور نے حاضرین کو خبر دی کہ وفد عبدالقیس آرہا ہے جو مشرق کے بہترین لوگوں میں سے ہے،ان میں اشج بھی ہے جس کا نام منذر ہے۔پوچھنا بے علمی سے ہی نہیں ہوتا رب نے پوچھا تھا:"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"۔۴؎یہ کلمات یا دعائیہ ہیں یعنی خدا کرے تمہیں کبھی رسوائی و شرمندگی نہ ہو یا خبر ہے یعنی اچھا ہوا تم خوشی سے اسلام لاکر حاضر ہوگئے،ورنہ کچھ عرصہ بعدلشکر اسلام تمہارا ملک فتح کرتا پھر تمہیں شرمندگی اور رسوائی ہوتی،اب عزت سے ایمان لے آئے۔
۵؎یہاں جنسی مہینہ مراد ہے یعنی ہم سال میں صرف ۴ محترم مہینوں میں ہی سفر کرکے آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ماہ حرام۴تھے رجب، ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم۔ان مہینوں میں کفاربھی قتل و غارت نہیں کرتے تھے،راستوں میں امن رہتی تھی،سفر بآسانی ہوتے تھے،اس لیے یہ عرض کررہے ہیں۔
۶؎جو باقی مہینوں میں لوٹ مار کرتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے سفر بند رہتے ہیں۔
۷؎یعنی ان عقائد و اعمال کی وجہ سے ہم پر الله فضل کرے،جنت بخشے۔خیال رہے کہ جنت الله کے فضل سے ملے گی،یہ اعمال اسی فضل کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
۸؎یہ ادبًا عرض کیا ورنہ یہ لوگ ایمان لاچکے تھے،مؤمن ایمان سے بے خبر نہیں ہوتا۔(مرقات)صحابہ کا یہ ادب تھا کہ ان کو علم بھی ہوتا مگر حضور پر پیش قدمی نہ کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو الله نے بہت علم بخشا۔
۹؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور پر ایمان لائے بغیر الله تعالٰی پر ایمان غیرممکن ہیں، ایمان باللّٰه کی تفسیر میں رسالت کا ذکر بھی ہوا۔ شہادۃسے مراد دل کی گواہی ہے،یعنی ماننا و قبول کرنا ورنہ زبانی اقرار ایمان کا جزو نہیں،بلکہ احکام اسلامی جاری ہونے کی شرط ہے۔
۱۰؎نماز،روزہ وغیرہ ایمان کی تفسیر نہیں بلکہ ایمان پرمعطوف ہے،یعنی انہیں ایمان کا بھی حکم دیا اور نماز روزے وغیرہ کا بھی۔لہذااقاموغیرہ جر سے پڑھنا چاہیئے،چونکہ ایمان اعمال پر مقدم ہے،اس لئے ایمان کے بعد ان کا ذکر ہوا،چونکہ ابھی حج نہ ہوا تھا اس لئے اس کا ذکر نہیں،حج۸ھ ∞میں فرض ہوا ہے۔۱۱؎چونکہ اس وقت جہاد فرض ہوچکا تھا اور یہ لوگ اہل جہاد سے تھے،اسی لئے انہیں جہاد کے احکام ارشاد فرمائے کہ اگر تم کفار مضر سے جہاد کرو تو جو غنیمت کامال حاصل ہوا اس کا پانچواں حصہ یہاں بھیج دیا کرو،چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیا کرو،رب فرماتاہے: "وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ"الخ۔
۱۲؎یہ شراب کے چاربرتن ہیں:حَنْتُم،شراب کی چھوٹی گھڑی،دُبَّاکھکل کیا ہوا پکا کدُو جو جگ کی طرح استعمال کیا جاتاتھا،نقیردرخت کی جڑجسے کھکل کرکے اس میں شراب رکھتے تھے،مُزَفتشراب پینے کا پیالہ۔چونکہ اس وقت شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی،اگر یہ برتن استعمال ہوتے رہتے توممکن تھا کہ انہیں چھوٹی ہوئی شراب پھر یاد آجاتی،اس لئے ان کا استعمال بھی حرام کردیا گیا،پھر کچھ عرصہ بعد یہ حرمت منسوخ ہوگئی جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
۱۳؎یعنی تم عالم و عامل بھی بنو اور مبلغ بھی،تبلیغ کے لیے کامل عالم ہونا شرط نہیں،جو صحیح مسئلہ ہو اس کی تبلیغ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام سے بچانے کے لیے اسباب حرام روکنا ضروری ہیں،نزلہ روکو تاکہ بخار سے بچو،چوہے فناکرو تاکہ طاعون نہ پھیلے،گانا اور بیہودگی روکو تاکہ زنا بند ہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 17