Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللّٰهُ عَنْهُ» هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ من لِسَانِهٖ وَيَدِهٖ

وعن عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه» هذا لفظ البخاري ولمسلم قال: إن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم : أي المسلمين خير قال: من سلم المسلمون من لسانه ويده

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان وہ ہےجس کی زبان و ہاتھ سےمسلمان ۲؎محفوظ رہیں اورمہاجر وہ جوممنوع چیزوں کوچھوڑ دے ۳؎یہ بخاری کے الفاظ ہیں اورمسلم میں ہے فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون مسلمان بہترہےفرمایاجس کی زبان وہاتھ سےمسلمان امن میں رہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ عمرو ابن عاص ابن وائل کے بیٹے ہیں،اپنے والد سے پہلے ایمان لائے،آپ نے ہی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے احادیث لکھیں،جن کی تعداد سات سوہے۔بڑے عالم،بڑے متقی عابد تھے،آخرمیں نابینا ہوگئے تھے،۶۳ھطائف یا مصر میں وفات ہوئی۔(مرقات)
۲
؎یعنی کامل مسلمان جو لغۃً شرعًا ہر طرح مسلمان ہو،وہ مؤمن ہے جو کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے،گالی،طعنہ،چغلی وغیرہ نہ کرے،کسی کو نہ مارے پیٹے،نہ اس کے خلاف کچھ تحریر کرے،یہ حدیث اخلاق کی جامع ہے۔مسلمانوں کی سلامتی کا ذکرخصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ بعض صورتوں میں کفار سے لڑنا بھڑنا،انہیں برا کہنا عبادت ہے۔یہاں ظلمًا غیبت واذیت مراد ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم مسلمان کافر ہے،یا رحم دل کافر مسلمان ہے۔
۳
؎یعنی کامل مہاجروہ مسلمان ہے جو ترک وطن کے ساتھ ترک گناہ بھی کرےیا گناہ چھوڑنا بھی لغۃً ہجرت ہے جوہمیشہ جاری رہے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 6