Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا: قَولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الإيمان بضع وسبعون شعبة فأفضلها: قول لا إله إلا الله وأدناها إماطة الأذى عن الطريق والحياء شعبة من الإيمان (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ )سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی چنداورستّر شاخیں ہیں ۲؎ ان سب میں اعلٰی یہ کہنا ہے ۳؎ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹانا ہے۴؎ اور غیرت بھی ایمان کی شاخ ہے ۵؎

شرح حدیث

۱؎ آپ کا نام کفر میں عبدالشمس اور اسلام میں عبدالرحمن ابن صخردوسی ہے،خیبر کے سال اسلام لائے،چار سال سفر و حضر میں حضور کے ہمراہ سایہ کی طرح رہے،آپ کو بلی بڑی پیاری تھی،حتی کہ ایک بار اپنی آستین میں بلی لیے ہوئے تھے،حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تم ابوہریرہ یعنی بلیوں والے ہو،تب آپ اس کنیت سے مشہور ہوگئے،مدینہ منورہ میں ۳۵ھ؁میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئے ۸۷ سال عمر ہوئی،غضب کا حافظہ تھا،آپ سے چار ہزارتین سو چونسٹھ حدیثیں مروی ہیں۔
۲؎ شعبہ درخت کی شاخ کو کہتے ہیں،یہاں خصلت مراد ہے یعنی معمولی کام سے لےکر اعلٰی کام تک سب اسلامی خصلتیں ہیں کسی کو نہ چھوڑو۔
۳؎ یعنی کلمہ طیبہ پڑھتے رہنا اس کی عادت ڈال دینا۔مردے کو کلمہ طیبہ کا ثواب پہنچانا،تیجہ وغیرہ کرنااس حدیث سے ماخوذ ہے کہ افضل عبادت کا ثواب بھی افضل ہے یہ ہی بخشناچاہیئے۔
۴؎ پتھرواینٹ،لکڑی وغیرہ جس سے لوگ الجھیں یاٹھوکرکھائیں دورکردینا ثواب ہے۔ایسے ہی مخلوق کو فائدہ پہنچانا بڑا ثواب ہے۔حتی کہ پانی پلانا اسی لئے بعض لوگ سبیلیں لگاتے ہیں۔
۵؎ غیرت سے ایمانی غیرت مراد ہے،جو گناہوں سے روک دے۔بندہ مخلوق سے، اللہ کے رسول سے،فرشتوں سے، اللہ تعالٰی سےشرم کرے گناہ نہ چھپ کرکرے کہ اللہ ،رسول،فرشتے دیکھتے ہیں،نہ ا علانیہ کرے کہ مسلمان بھی دیکھ ر ہے ہیں۔نفسانی یا شیطانی غیرت مرادنہیں جیسے نمازیاغسل سے شرمانا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 5