- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 27
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 27
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عُبَادَةَ ابْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسٰى عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ اِبْنُ أَمَتِهِ وَكَلِمَتُهٗ أَلْقَاهَا إِلٰى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ عَلٰى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عبادة ابن الصامت قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وأن عيسى عبد الله ورسوله ابن أمته وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه والجنة والنار حق أدخله الله الجنة على ما كان من العمل»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوگواہی دے کہ اکیلے خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد الله کے بندے اور رسول ہیں ۱؎عیسٰی الله کے بندے اور رسول اوراس کی بندی کے بیٹے ۲؎الله کا کلمہ ہیں جو مریم میں ڈالا ۳؎اور الله کی طرف سے روح ہیں ۴؎اور جنت و دوزخ حق ہے الله اُسے جنت میں داخل کرے گا مطابق عمل کے ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎بندۂ اعلٰی اور رسول اکمل جن کی عبدیت سے الله کی ربوبیت چمکی اور جن کی رسالت رب کی الوہیت کا مظہر اتم ہے۔لہذا ان کی بندگی اور دوسروں کی بندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اور بندوں کو اس پر ناز ہے کہ ہمارا رب الله ہے۔دستِ قدرت کو اس پر ناز ہے کہ میرے بندے محمدالرسول الله ہیں،فرماتا ہے:"ھُوَ الَّذِیۡۤ اَرْسَلَ رَسُوۡلَہٗ"اور بندے رب کو راضی کرنا چاہیں۔رب جناب مصطفےٰ کو راضی کرنا چاہے فرماتا ہے:"وَلَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"اور بندے کشتیٔ اسلام میں پار لگنے کو سوار ہوئے،جناب مصطفےٰپار لگانے کو،جیسے جہاز کے مسافر اور کپتان کہ جہاز مسافروں کو پار لگاتا ہے اور کپتان جہاز کو،اسی لئے مسافر کرایہ دے کر جہاز میں بیٹھتے ہیں اور کپتان تنخواہ لے کر۔سواری ایک ہے مگر سواروں کی نوعیت میں فرق ہے،لہذا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نماز،کلمہ پڑھنے،حج و تلاوت قرآن کرنے سے یہ نہ سمجھو کہ حضور ہماری طرح مؤمن ہیں۔ان اعمال سے ہماری عزت ہےاور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کرنے کی وجہ سے ان اعمال کی عزت افزائی،ہمیں فخر ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں،نماز کو فخرہے کہ حضور نے مجھے پڑھا۔
۲؎یہ فرمان نہایت جامع ہے۔عیسائی جناب مسیح کو خدا کا بیٹا،اور بی بی مریم کو رب کی بیوی کہتے تھے۔یہودی جناب مسیح کی نبوت کے بھی انکاری تھے اور پاک بتول مریم کو تہمت لگاتے تھے۔اس ایک کلمہ میں دونوں کی نفیس تردید ہوگئی۔زمانہ موجودہ کے قادیانی آپ کو یوسف نجار کا بیٹا کہتے ہیں۔اور حضرت مریم کا نکاح ان سے ثابت کرتے ہیں۔اس میں ان کی بھی اعلٰی تردید ہے کہ اگر جناب مسیح باپ کے بیٹے ہوتے تو اسی طرف آپ کی نسبت ہوتی،قرآن نے بھی انہیں عیسیٰ بن مریم فرمایا حالانکہ فرماتا ہے:"اُدْعُوۡھُمْ لِاٰبَآئِہِمْ"۔
۳؎اس طرح کہ حضرت جبرئیل نے باذن الٰہیکُنکہہ کر حضرت مریم کے سینہ پر پھونکا جس سے آپ حاملہ ہوگئیں۔خیال رہے کہ جناب مسیح کا لقبکلمۃﷲہے یا اس لیے کہ آپ کی پیدائش کلمہکنسے ہےرب فرماتا ہے:"اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰهِ"الخ،آدم علیہ السلام کو کلمۃ الله اس لیے نہیں کہتے کہ ان کے جسم کی پیدائش مٹی سے ہے۔صرف روح پھونکناکلمۂ کنسے رب فرماتا ہے:فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡمگر جناب مسیح کا جسم اور روح سبکُنسےنطفہ علقہ مضغہکچھ نہیں۔(ازمرقاۃ)یا اس لیے کہ جناب مسیح ازسر تاپا الله کی حجت ہیں گویا سراپا کلمہ ہیں۔یا اس لیے کہ آپ ایک کلمہ دم کرکے بیماروں کو تندرست،مردوں کو زندہ کرتے تھے(اس سے بزرگوں کی جھاڑ پھونک ثابت ہوئی)یا اس لیے کہ آپ نے پیدا ہوتے ہی کلمہ پڑھا کہ کہا"اِنّی عَبدُ الله"الخ۴؎مِنہُکیمِنتبعیضیہ نہیں اور اس کا معنی یہ نہیں کہ الله کا ٹکڑا ہیں بلکہ "من"ابتدائیہ ہے،یعنی الله کی جانب سے بلا واسطۂ نطفہ آپ کی پیدائش ہے۔آپ کا لقب روح الله بھی ہے یا اس لیے کہ آپ روح الامین جبرئیل کی پھونک سے پیدا ہوئے یا اس لیے کہ آپ مردہ دلوں کو روح ایمان بخشتے ہیں۔
۵؎کہ اعلٰی درجے کے متقی کو جنت کا اعلٰی مقام عطا فرمائے گا اور ادنی متقی کو وہاں کا ادنی مقام، یہ ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں جنت کسب سے ملے، جو دوسروں کے طفیل جنت میں جائیں گے وہ ان کے ساتھ رہیں گے۔جیسے مسلمانوں کے شیر خوار بچے اور بیویاں لہذا حضرت ابراہیم ابن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج پاک جنت میں حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھ ہوں گے۔خیال رہے کہ جنت میں داخلہ ایمان کی بنا پر ہوگا، وہاں کے مراتب اعمال کے مطابق۔ جنت کا داخلہ تین ۳ طرح کا ہے کسبی، وہبی، عطائی یہاں کسبی کا ذکر ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 27