Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 10

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَا يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اُس کی قسم،اس امت میں سے ۱؎کوئی یہودی عیسائی میرا نام سُن لے پھر ایمان لائے بغیرمرجائے اس پر جو مجھے دے کربھیجا گیامگر وہ دوزخی ہوگا۲؎

شرح حدیث

۱∞؎امت سےمراد امتِ دعوت ہے،یعنی سارے انسان یہودی عیسائی اس کا بیان ہے مشرکین وغیرہ کفار خود بخود اس میں داخل ہوگئے کہ جب یہودونصاریٰ پربھی اسلام لانا ضروری ہوا،جو پہلے پیغمبروں پرایمان لاچکے ہیں تو جو سرے سےکسی نبی کو مانتے ہی نہیں ان پر یقینًا اسلام لانا ضروری ہے۔
۲
؎اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تمام مخلوق پر حضور کی اطاعت لازم ہے کسی ملک،کسی قبیلہ،کسی زمانہ کا ہو جو خدا کا بندہ ہے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت لازم۔دوسرے یہ کہ جسے حضور کی نبوت کی اطلاع نہ پہنچے وہ معذور ہے اس کی نجات کے لیے صرف عقیدۂ توحید کافی ہے۔لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین مغفور وجنتی ہیں کہ وہ حضرات مؤحد تھے اور حضور کی نبوت سے پہلے وفات پاگئے۔اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہماری"تفسیرنعیمی"پارہ اول میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 10