- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 28
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 28
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ اُبْسُطْ يَمِيْنَكَ فَلِأُبَايِعَكَ فَبَسَطَ يَمِيْنَهٗ فَقَبَضْتُ يَدِيْ فَقَالَ مَا لَكَ يَا عَمْرُو قُلْتُ أَرَدْتُ أَن أشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ مَاذَا قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِيْ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ یَا عَمْرُو أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ» رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالْحَدِيثَانِ الْمَرْوِيَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى:«أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ». وَالْآخَرُ: «الْكِبْرِيَاءُ رِدَائَيْ» سَنَذْكُرُهُمَا فِي بَابِ الرِّيَاءِ وَالْكِبْرِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالیٰ
وعن عمرو بن العاص قال: «أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت ابسط يمينك فلأبايعك فبسط يمينه فقبضت يدي فقال ما لك يا عمرو قلت أردت أن أشترط قال تشترط ماذا قلت أن يغفر لي قال أما علمت یا عمرو أن الإسلام يهدم ما كان قبله وأن الهجرة تهدم ما كان قبلها وأن الحج يهدم ما كان قبله» رواہ مسلم والحديثان المرويان عن أبي هريرة قال: قال الله تعالى:«أنا أغنى الشركاء عن الشرك». والاخر: «الكبرياء ردائي» سنذكرهما في باب الرياء والكبر إن شاء الله تعالی
حدیث ترجمہ
روایت ہے عمر و ابن عاص سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ آپ کی بیعت کروں ۲∞؎آپ نے ہاتھ بڑھایا میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا ۳؎فرمایا اے عمرویہ کیا میں نے عرض کیا کچھ شرط لگانا چاہتا ہوں فرمایا کیا شرط میں نے عرض کیا کہ میری بخشش ہوجائے ۴؎فرمایا اے عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے گناہ ڈھادیتا ہے اور ہجرت پچھلے گناہ ڈھادیتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہ ڈھا دیتا ہے ۵؎یہ مسلم نے روایت کی اور وہ دو حدیثیں جو حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔فرماتے ہیں فرمایا الله تعالٰی نے کہ میں تمام شرکاء میں شرک سے غنی تر ہوں اور دوسری یہ کہ عظمت و بلندی میری چادر ہے ہم انہیںریااورکِبرکے بابوں میں ذکر کریں گے ۶؎اگر الله نے چاہا۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ عمروبن العاص سہمی قریشی ہیں،۵ھمیں خالد ابن ولیدرضی اللہ عنہ اور عثمان ابن طلحہ کے ساتھ مدینہ میں آکر اسلام لائے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عمّان کا گورنر مقرر فرمایا،آپ حضرت عمر و عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم کے عامل رہے،آپ فاتح مصر ہیں مصر ہی میں نوے سال کی عمر پا کر۴۳ھمیں وفات پائی۔(اکمال)
۲؎یہ بیعت اسلام ہے صحابہ کرام اسلام لاتے وقت حضور سے بیعت بھی کیا کرتے تھے یعنی استقامت کا وعدہ بیعت تو یہ بیعت تقویٰ،بیعت جہاد،بیعت شہادت کسی خاص مسئلے پر،بیعت اس کے علاوہ ہیں آج کل علی العموم مشائخ سے بیعت توبہ یا تقویٰ ہوتی ہے۔بیعت کے وقت شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ دینا سنت ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔
۳؎بے ادبی کے لیے نہیں بلکہ بندہ مختار مانتے تھے۔
۴؎دیکھو بخشنا کام الله کا ہے اور شرط لگارہے ہیں رسول الله سے،ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو جنت عطا فرمائیے حضور ہمیں دوزخ سے نجات نصیب ہو۔
۵؎معلوم ہوا کہ ایمان اور نیک اعمال معافی گناہ کا ذریعہ ہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"مگر ان سے گناہ مٹتے ہیں نہ کہ حقوق العباد۔نو مسلم اسلام لاکر زمانۂ کفر کے قر ض بھی ادا کرے گا اور حدود و قصاص بھی،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔یعنی یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ زمانۂ کفر میں ظلمًا قتل کرلو،لوگوں کے مال مارلو اور بعد میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاؤ سب معاف،یہ ناممکن ہے۔
۶؎یعنی یہ دو حدیثیں مصابیح میں اسی باب میں تھیں مگر ہم پہلی حدیث "باب الریاء"میں اور دوسری"باب الکبر"میں لائیں گے کیونکہ یہ وہاں کے ہی مناسب ہیں۔یہ فقیران شاء اللّٰهُان حدیثوں کی شرح بھی وہیں عرض کرے گا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 28