Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 30

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ أَحَبَّ لِلّٰهِ وَأَبْغَضَ لِلّٰهِ وَأَعْطَى لِلّٰهِ وَمَنَعَ لِلّٰهِ فَقَدِ اسْتكْمَلَ الْإِيمَانَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الإيمان» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو کوئی اللہ کے لیے محبت و عداوت کرے اور الله کے لئے دے اور روکے ۲؎اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا ۳؎یہ حدیث ابو داؤد نے روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شریف صدی،کنیت ابوامامہ ہے،قبیلہ بنی باہلہ سے ہیں،اولًا مصر میں،پھر حمّص میں قیام فرمایا،اکہتر سال کی عمر پاکر۸۶ھحمّص ہی میں وفات پائی،شام کے سب سے آخری صحابی آپ ہی ہیں۔(مرقاۃ)۲؎اگرچہ مسلمان کا ہر کام الله کے لیے ہی چاہئیے مگر یہ چار کام اکثر نفس کے لیے ہوتے ہیں اسلئے ان کا خصوصیّت سے ذکر فرمایا۔جب یہی کام الله کے لیے ہوگئے تو باقی اعمال سونا،جاگنا،بولنا اور چپ رہنا وغیرہ سب الله کیلئے ہوں گے۔دیکھا یہ گیا ہے کہ الله کے لئے دینے والے تھوڑے،نام نمود میں خرچ کرنے والے زیادہ ہیں۔رب تعالٰی یہ صفتیں نصیب کرے۔
۳
؎کیونکہ کمال ایمان اخلاص سے نصیب ہوتا ہے۔مخلص صدیقین کے زمرہ میں پہنچ جاتا ہے۔اخلاص کی پہچان یہ ہے کہ کافر بیٹا دشمن معلوم ہو،اجنبی مؤمن پیارا؎ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشناباشد

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 30