Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 16

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفَقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ» . فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ فَقَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ» . قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا فَقَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفْلَحَ الرَّجُلُ إِنْ صَدَقَ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن طلحة بن عبيد الله قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل نجد ثائر الرأس نسمع دوي صوته ولا نفقه ما يقول حتى دنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو يسأل عن الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «خمس صلوات في اليوم والليلة» . فقال: هل علي غيرهن فقال: لا إلا أن تطوع. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وصيام شهر رمضان فقال: هل علي غيره قال: «لا إلا أن تطوع» . قال: وذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم الزكاة فقال: هل علي غيرها فقال: لا إلا أن تطوع قال فأدبر الرجل وهو يقول: لا أزيد على هذا ولا أنقص فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أفلح الرجل إن صدق» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبد الله سے ۱؎کہ ایک نجدی شخص۲؎حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بال بکھیرے حاضرہوا جس کی گنگناہٹ توہم سنتے تھےمگرسمجھتے نہ تھے کہ کیاکہتا ہے یہاں تک کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو اسلام کے بارے میں پوچھنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں ہیں بولا ان کے سواء میرے ذمہ اور نماز بھی ہے فرمایا نہیں ۳؎ہاں چاہو تو نفل پڑھو۴؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے بولا کیا مجھ پر اس کے سواء اور بھی ہیں فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے فرمایا اُس سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نےزکوۃ کا ذکر فرمایا بولا کیا میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے فرمایا نہیں مگرنفل ادا کرے ۵؎فرمایا اس نے پیٹھ پھیرلی یہ کہتا جاتا تھا کہ مَیں اِس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ شخص سچا ہے تو کامیاب ہوگا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابومحمدہے،قرشی ہیں،ابوبکرکےبھتیجے،قدیم الاسلام ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ احدمیں حضور کے لیے ڈھال بنے اور چوبیس زخم کھائے،آپ کےجسم پرکل ۷۵ زخم تھے جو غزوات میں کھائے تھے،جنگ جمل ۳۶ھمیں بصرہ میں شہید ہوئے،وہاں ہی آپ کا مزار پر انوار ہے،فقیر نے مزارپاک کی زیارت کی ہے،حضور کی دعوت اور دعوت کے معجزات آپ کے ہاں ظاہر ہوئے جو مشہور ہیں۔
۲
؎نجدعرب کا ایک صوبہ ہے جو مکہ معظمہ اور عراق کے درمیان واقع ہے۔اس صوبہ کے متعلق حضور نے دعاء خیر نہ فرمائی اوروہاں سے وہابی فرقے کے نکلنے کی خبر دی جو آخر کتاب میںان شاء اللّٰهذکر ہوگا۔
۳
؎یعنی ان پانچ نمازوں کے سوا اور نماز اسلام کا فرض نہیں،عیدین اور وتر واجب ہے،نماز جمعہ ظہر کی قائم مقام ہے لہذا یہ ان ہی پانچ میں شامل ہے۔
۴
؎نفل سے لغوی معنی مراد ہیں فرض پر زائد،رب فرماتا ہے:"فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ"لہذا اس میں وتر وعیدین داخل ہیں۔یا اس وقت تک یہ نمازیں اسلام میں آئی نہ تھیں،بہرحال یہ حدیث وتر وعیدین کے وجوب کے خلاف نہیں احناف کے مخالف نہیں۔
۵
؎یہ جملہ بھی فطرے اور قربانی کے وجوب کے خلاف نہیں جیسا کہ ؀ ۴ کی تقریر سے واضح ہے۔
۶
؎یعنی اگرصدق دل سے وعدہ کیا ہے تو کامیاب ہوگا یا اگر اس وعدے کو پوراکر دکھائے تو کامیاب ہوگا۔معلوم ہوتاہے کہ نجدیوں کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اس سے پہلے ایک سائل کے ان ہی الفاظ پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فلاح و کامیابی کا قطعی حکم دے دیا،اس نجدی کے ان ہی الفاظ پر مشکوک طریقہ سے کامیابی بیان فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 16