- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 1959
باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1959
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِیح الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ،فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إنِّي امْرُؤٌ صَائِم". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "كل عمل ابن آدم يضاعف، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مئة ضعف، قال الله تعالى: إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به، يدع شهوته وطعامه من أجلي، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ریح المسك، والصيام جنة، وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب،فإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إني امرؤ صائم". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کی ساری نیکیاں دس۱۰ گُنے سے سات سوگُنے تک بڑھائی جائیں گی ۱؎رب تعالٰی فرماتا ہے سوائے روزہ کے کہ روزہ تو میرا ہے ۲؎اور میں ہی اس کا ثواب دوں گا۳؎وہ میرے لیے اپنی شہوت اور اپنا کھانا چھوڑتاہے۴؎روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملتے وقت ۵؎روزہ دار کی منہ کی بدبو الله کے ہاں مشک کی خوشبو سے بہتر ہے ۶؎اور روزے ڈھال ہیں۷؎اور جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ بری بات کہے نہ شور مچائے ۸؎اگر کوئی اس سے گالی گلوچ یا جنگ کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ۹؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی قانونًا ایک نیکی کا ثواب کم سے کم دس گناہ اور زیادہ سے زیادہ سات سو گناہ ہے اگر الله اور زیادہ دے تو اس کا کرم ہے۔اس حدیث سے دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور دوسری"کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ"۔
۲؎اگرچہ ساری عبادتیں الله تعالٰی کی ہیں مگر خصوصیت سے روزہ کو فرمایا کہ یہ میرا ہے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ دیگر عبادات میں اطاعت غالب ہے اور روزہ میں عشق غالب اور روزہ دار میں علامات عشق جمع ہوجاتی ہیں۔شعر
عاشقاں راشس نشان است اے پسر آہ سرد و رنگ زرد و چشم تر
گر ترا پرسند سہ دیگر کدام کم خورد کم گفتن و خفتن حرام
اور مطیع کا عوض ثواب ہے عاشق کا عوض لقائے یار۔دوسرے یہ کہ دوسری عبادتوں میں ریا ہوسکتی ہے کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے اور ان میں کچھ کرنا ہوتا ہے مگر روزہ میں ریاء نہیں ہوسکتی کہ نہ اس کی کوئی صورت ہے اور نہ اس میں کچھ کرنا ہے،جو اندر باہر کچھ نہ کھائے پیئے وہ یقینًا مخلص ہی ہے،ریا کار گھر میں کھا کر بھی روزہ ظاہر کرسکتا ہے۔تیسرے یہ کہ کل قیامت میں دوسری عبادتیں اہل حقوق چھین سکتے ہیں حتی کہ قرض خواہ مقروض سے سات سو نمازیں تین پیسہ قرض کی عوض لے لے گا۔(شامی)مگر روزہ کسی حق والے کو نہ دیا جائے گا،رب تعالٰی فرمائے گا کہ روزہ تو میرا ہے یہ کسی کو نہیں ملے گا۔چوتھے یہ کہ کفار و مشرکین دوسری عبادتیں بتوں کے لیے بھی کرلیتے ہیں قربانی،سجدہ،حج و خیرات وغیرہ مگر کوئی کافر روزہ بت کے لیے نہیں رکھتا اگر روزہ رکھتے بھی ہیں تو صفائی نفس کے لیے تاکہ اس صفائی سے بتوں سے قرب حاصل ہو۔غرض کہ روزہ غیر الله کے لیے نہیں ہوتا۔(ازمرقات،اشعہ وغیرہ)
۳؎اس عبارت کی دو قرأتیں ہیںاجزیمعروف اوراجزیمجہول یعنی روزہ کا بدلہ میں براہ راست خود دوں گا،میں دینے والا روزہ دار لینے والا جو چاہوں دوں اس کی جزا مقرر نہیں یا روزہ کا بدلہ میں خود ہوں یعنی تمام عبادات کا بدلہ جنت ہے اور روزہ کا بدلہ جنت والا رب اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔
۴؎یعنی دوسرے عابد عابد ہیں یہ عابدبھی اور عاشق بھی یا روزہ دار ریا ء کے لیے کھانا پینا نہیں چھوڑتا وہ صرف میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے ریا کار چھپ کر کھا کر روزہ ظاہرکرسکتا ہے۔
۵؎سبحان الله !کیسا پیارا فرمان ہے روزہ دارکو افطار کے وقت روحانی خوشی بھی ہوتی ہے کہ عبادت ادا ہوئی رب تعالٰی راضی ہوا سینہ میں نور دل میں سرور ہوا اور جسمانی فرحت بھی کہ سخت پیاس کے بعد ٹھنڈا پانی بہت ہی فرحت کا باعث ہے اور تیز بھوک میں رب تعالٰی کی روزی بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے اوران شاء اللهمرتے وقت بھی بروز قیامت بھی رب تعالٰی کی مہربانی دیکھ کر روزہ دار کو جو خوشی ہوگی وہ تو بیان سے باہر ہے وہ کریم فرمائے گا کہ دنیا میں جو میں نے کہا وہ تو نے کیا اب جو تو کہے گا وہ میں کروں گا الله تعالٰی خیریت سے وہ وقت دکھائے۔الله کا شکر ہے کہ فقیرحقیرگنہگار یہ بیان بھی آج ۲۵ رمضان المبارک ۱۳۷۹ھ جمعرات کے دن لکھ رہا ہے۔رب تعالٰی اپنے فضل و کرم اور محبوب معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے اسقالکوحالبنا دے۔
۶؎خیال رہے کہ منہ کی وہ بدبو جو دانتوں کے میل وغیرہ یا بیماری سے پیدا ہوکر نحر کہلاتی ہے اور جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا سے خلوف کہتے ہیں،دانتوں کے میل کی بو تو مسواک ومنجن سے جاسکتی ہے اور بیماری کی بو دواؤوں سے مگر خلوف معدہ کی بو صرف کھانے سے جاسکتی ہے۔تجربہ ہے کہ یہ بو مسواک کے بعدبھی رہتی ہے لہذا یہ حدیث نہ امام شافعی رحمۃ الله علیہ کی اس پر دلیل ہے کہ بعد زوال روزہ میں مسواک منع اور نہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ الله علیہ کے اس مسئلہ کے خلاف ہےکہ روزہ میں مسواک ہر وقت جائزہے۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ جملہ ایسا ہے جیسے ماں کہے کہ مجھے اپنے بچے کا پسینہ کیوڑے گلاب سے پیارا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پسینہ دھویا بھی نہ جائے۔روزہ میں مسواک کی پوری بحثان شاء اللهآگے آئے گی۔
۷؎کہ دنیا میں نفس و شیطان کے شر سے بچاتے ہیں اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے بچائیں گے۔
۸؎شور سے مراد جنگ و جدال کا شور ہے۔شریعت میں روزہ پیٹ اور دماغ کا ہوتا ہے مگر طریقت میں سارے اعضاء کا کہ انہیں گناہوں سے بچایا جائے اس جملہ میں اسی روزہ کی تعلیم ہے۔
۹؎لہذا میں تجھ سے لڑنے کو تیار نہیں اس پران شاء اللهوہ خود ہی شرمندہ ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ میں روزہ دار ہوں الله کی ضمان میں ہوں مجھ سے لڑنا گویا رب کا مقابلہ کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی چھپی عبادت کا اظہار جائز ہے بشرطیکہ فخر و ریا کے لیے نہ ہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1959