- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 1962
باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1962
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيم، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "أتاكم رمضان شهر مبارك، فرض الله عليكم صيامه، تفتح فيه أبواب السماء، وتغلق فيه أبواب الجحيم، وتغل فيه مردة الشياطين، لله فيه ليلة خير من ألف شهر ، من حرم خيرها فقد حرم". رواه أحمد والنسائي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان آگیا برکت والا مہینہ ہے ۱؎اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ۲؎اس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۳؎دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور اس میں مردود شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۴؎اس میں ایک رات ہے ہزار مہینوں سے بہتر ۵؎جو اس کی خیر سے محروم رہا وہ بالکل ہی محروم رہا ۶؎(احمد،نسائی)
شرح حدیث
۱؎برکت کے معنی ہیں بیٹھ جانا جم جانا اسی لیے اونٹ کے طویلہ کومبارك الابلکہا جاتا ہے کہ وہاں اونٹ بیٹھتے بندھتے ہیں اب وہ زیادتی خیر جو آکر نہ جائے برکت کہلاتی ہے،چونکہ ماہ رمضان میں حسی برکتیں بھی ہیں اور غیبی برکتیں بھی اس لیے اس مہینہ کا نام ماہ مبارک بھی ہے رمضان میں قدرتی طور پر مؤمنوں کے رزق میں برکت ہوتی ہے اور ہر نیکی کا ثواب ستر گناہ یا اس سے بھی زیادہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کی آمد پر خوش ہونا ایک دوسرے کو مبارک بار دینا سنت ہے اور جس کی آمد پر خوشی ہونا چاہئیے اس کے جانے پر غم بھی ہونا چاہئیے۔دیکھو نکاح ختم ہونے پر عورت کو شرعًا غم لازم ہے اسی لیے اکثر مسلمان جمعۃ الوداع کو مغموم اور چشم پر نم ہوتے ہیں اور خطباء اس دن میں کچھ وداعیہ کلمات کہتے ہیں تاکہ مسلمان باقی گھڑیوں کو غنیمت جان کر نیکیوں میں اور زیادہ کوشش کریں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲؎یعنی سب پر روزۂ رمضان ہی فرض ہیں طاقتِ روزہ رکھنے والا فدیہ نہیں دے سکتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُ"حتی کہ حائضہ عورت نمازوں کی قضا نہیں کرتی مگر روزوں کی قضا کرتی ہے لہذا حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔
۳؎آسمان میں بہت سی قسم کے دروازے ہیں:روزی اور فرشتے اترنے کے لیے دروازے،لوگوں کے اعمال جانے کے دروازے،عذاب آنے کے دروازے،مخصوص رحمتیں اترنے کے دروازے وغیرہ یہاں یہ آخری قسم کے دروازے مراد ہیں یعنی رمضان میں خاص رحمتوں یا خاص فرشتوں کی آمد کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آسمان کے دروازے تو ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔
۴؎اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں بہترین مطلب یہ ہے کہ عام شیاطین تو رب کے عام جیل خانوں میں بند کئے جاتے ہیں مگر بہت زیادہ سرکش شیاطین زنجیروں و طوقوں میں باندھے جاتے ہیں جیسے دنیاوی جیلوں میں پھانسی کے ملزم کال کوٹھری میں بند ہوتے ہیں اور ڈاکوؤں کو بیڑیاں پہنادی جاتی ہیں اسی لیے یہاںتُغَلُّفرمایا گیا۔تغلغلسے بنا،بمعنی زنجیر و طوق ہےلہذا یہاں مردود کی قید احترازی ہے اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف بھی نہیں۔
۵؎وہ رات شب قدر ہے جو بفضلہ تعالٰی ہر ماہ رمضان میں ہوتی ہے کہ دوسری ہزار مہینوں کی عبادت سے جس میں شبِ قدر نہ ہو اس ایک رات کی عبادت بہتر ہے اور غالبًا یہ رات ستائیسویں رمضان ہے۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب"مواعظہ نعیمیہ"میں ملاحظہ فرمائیے۔خیال رہے کہلیلۃ القدرمیں نو حرف ہیں اور سورۃ قدر میں یہ لفظ تین بار ارشاد ہوا نو۹ تین دفعہ ہوں تو ستائیس بنتے ہیں،نیز سورۂ قدر میں تیس کلمے ہیں آخری آیت "ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ"میںھیضمیر جولیلۃ القدرکی طرف لوٹ رہی ہے ستائیسواں کلمہ ہے۔ان وجوہ سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر ستائیسویں رمضان ہے۔
۶؎یعنی جس نے یہ رات گناہوں میں گزاری یا اس رات بھی بلاعذر عشاء اور فجر جماعت سے نہ پڑھی اس لیے اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ بقیہ دنوں میں بھی بھلائی نہیں کمائے گا۔شبِ قدر میں عبادتوں کی تین قسم ہیں جن میں سے آخری قسم ہے عشاء و فجر کا جماعت سے ادا کرنا جس نے یہ بھی نہ کیا واقعی وہ بڑا محروم ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ !گنہگار احمد یار آج ستائیسویں رمضان ۱۳۷۹ھ کو یہ مضمون لکھ رہا ہے آج شبِ قدر ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1962