Main Icon

باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1960

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذٰلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن، وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب، وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب، وينادي مناد : يا باغي الخير أقبل، ويا باغي الشر أقصر، ولله عتقاء من النار، وذلك كل ليلة". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کردیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ۱؎اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی چاہنے والے آ ۲؎اور برائی چاہنے والے باز آ ۳؎اور اللہ کی طرف سے لوگ آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں یہ ہر رات ہوتاہے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎ان تین جملوں کی شرح ابھی کچھ پہلے ہوچکی ہے کہ یہ تینوں جملے اپنے ظاہری معنے پر ہیں ان میں کسی کی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں،چونکہ ابلیس ایک ہے اور اس کی ذریت بہت قسم کی جن کے نام بھی الگ ہیں اور کام بھی الگ یہ سب ہی ایک مہینہ کے لیے گرفتار کرلیے جاتے ہیں اس لیے شیاطین جمع فرمایا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں جنت اور دوزخ کے دروازے کبھی کھلتے ہیں کبھی بند ہوتے ہیں مگر رمضان میں سارا مہینہ دوزخ کے دروازے بند رہتے ہیں جنت کے کھلے۔سبحان الله !حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کا دروازہ دیگر مہینوں میں شبِ جمعہ کو کھلتا ہے مگر ماہ رمضان میں ہمیشہ کھلا رہتا ہے کیوں نہ ہو کہ وہ ہم غریبوں کی جنت ہے۔شعر
مسجد من کعبہ من خلد من آستان تو در تو کوئے تو
۲
؎اللہ کی طرف آ،رسول اللہ کی طرف آ،جنت کی طرف آ،مسجد کی طرف آ،عبادت کی طرف آ کیونکہ اب عمل قلیل پر جزائے جلیل ملے گی،زمانہ کمائی کا آگیا کچھ کمالے۔
۳
؎گناہوں سے باز آ،غیر اللہ کی طرف سے بھاگنے سے باز آ،رمضان رب کا مہمان ہے اس سے شرم کر۔اس آواز کا اثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ اس زمانہ میں بے نماز نمازی ہوجاتے ہیں،بخیل سخی بن جاتے ہیں،بچے اور بیمار جو نماز سے گھبرائیں روزہ پر حریص ہوتے ہیں حالانکہ روزہ نماز سے دشوار ہے روزہ میں عادۃً سستی اور نیند بڑھ جاتی ہے مگر پھر بھی مسجدیں بھری رہتی ہیں اور راتیں ذکر اللہ سے آباد۔
۴
؎یعنی مہینہ بھر روزانہ افطار کے وقت بہت سے ہم جیسے گنہگار جو اپنے گیارہ مہینوں کی بدکاریوں کی وجہ سے دوزخ کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں انہیں اللہ روزہ کی برکت سے معافی دے دیتا ہے فرماتا ہے اگرچہ گنہگار ہیں مگر روزہ دار ہیں بخش دیا ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1960