Main Icon

باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1967

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى حَوْلٍ قَابِلٍ". قَالَ: "فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ، فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ! اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرَّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا، وَتَقَرَّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن ابن عمر أن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: "إن الجنة تزخرف لرمضان من رأس الحول إلى حول قابل". قال: "فإذا كان أول يوم من رمضان هبت ريح تحت العرش من ورق الجنة على الحور العين، فيقلن: يا رب! اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا، وتقر أعينهم بنا". روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے لیے جنت شروع سال سے اگلے سال تک سنواری جاتی ہے ۱؎فرمایا جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے جنت کے پتوں سے آنکھ والی حوروں پر ایک خوشگوار ہوا چلتی ہے ۲؎تو حوریں عرض کرتی ہیں یا رب اپنے بندوں کو ہمارا خاوند بنا ان سے ہماری آنکھیں اور ہم سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۳؎یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل فرمائیں ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عیدالفطر کا چاند نظر آتے ہی اگلے رمضان کے لیے جنت کی آراستگی شروع ہوجاتی ہے اور سال بھر تک فرشتے اسے سجاتے رہتے ہیں جنت خود سجی سجائی پھر اور بھی زیادہ سجائی جائے،پھر سجانے والے فرشتے ہوں تو کیسی سجائی جاتی ہوگی اس کی سجاوٹ ہمارے وہم و گمان سے وراء ہے،بعض مسلمان رمضان میں مسجدیں سجاتے ہیں،وہاں قلعی چونا کرتے ہیں،جھنڈیاں لگاتے،روشنی کرتے ہیں ان کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔
۲
؎یعنی یہ ہوا عرش سے شروع ہوتی ہے جنت کے درختوں،پھولوں سے معطر ہوکر حوروں پر پہنچتی ہے۔ مرقات نے فرمایا یہ روزہ داروں کے منہ کی بو کے اثر سے ہوتی ہے۔و الله اعلم!۳؎یعنی ہم کو ان روزے داروں کے نکاح میں دےکہ وہ ہمارے خاوند ہوں ہم ان کی بیویاں بنیں۔خیال رہے کہ نکاح کے لیے نامزدگی تو پہلے ہی ہوچکی ہے کہ فلاں حور فلاں کی بیوی مگر نکاح جنت میں پہنچ کر ہوگا یا نکاح پہلے ہوچکاہے رخصت یعنی عطا بعد قیامت ہوگی لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَزَوَّجْنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍقرۃخوشگوار ٹھنڈک کو کہتے ہیں اسی لیے بیٹے کوقرۃ العینکہتے ہیں۔
۴
؎یہ احادیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہیں لہذا قوی ہیں،کثرت اسناد ضعیف کو قوی کردیتی ہے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1967