Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5556

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ:"وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ ألفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

عن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول:"وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب، مع كل ألف سبعون ألفا وثلاث حثيات من حثيات ربي". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمالیا ہے کہ میری امت میں سے ستر۷۰ ہزار کو جنت میں اس طرح داخل فرمائے گا کہ نہ ان کا حساب ہوگا نہ عذاب ۱∞؎ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ۲؎اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎عربی زبان میں لفظسبعتینیا لفظسبعینالفًازیادتی بیان کرنے کے لیے آتا ہے وہ ہی مراد ہے۔لاحساب کے معنی ہیں کہ ان سے مطلقًا حساب نہ ہوگا نہ حساب یسیر نہ حساب مناقشہ،مگر مرقات نے فرمایا کہ یہاں حساب مناقشہ کی نفی ہے پیشی والا حساب تو ہوگا مگر قوی یہ ہی ہے کہ مطلقًا حساب نہ ہوگا اور جب حساب ہی نہ ہوا تو عذاب کا سوال ہی نہیں۔حساب سے مراد حساب قیامت ہے اور ہوسکتا ہے کہ حساب قیامت اور حساب قبر دونوں مراد ہوں،نہ حساب قبر سب کے لیے ہے نہ عذاب محشر سب کے لیے،بعض حضرات ان حسابوں سے علیحدہ ہیں۔۲؎پہلے ستر ہزار تو وہ تھے جو اپنے نیک اعمال کی وجہ سے بے حساب جنتی ہوئے اور دوسرے ستر ہزار وہ ہیں جو ان پہلوں کی طفیل ان کی خدمت ان کے قرب کی وجہ سے بے حساب جنت میں گئے۔گلدستہ میں پھولوں کے ساتھ گھاس بندھ جاتی ہے تو وہ بھی عزت پاجاتی ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کے ساتھ بے شمار لوگ ہوں گے جو ان کے طفیل بخشے جائیں گے۔شعر
شنیدم کہ در روز امیدوبیم بداں رابہ نیکاں بہ بخشد کریم
۳
؎ظاہر یہ ہے کہثلثمعطوف ہےسبعون الفاپر۔مطلب یہ ہے کہ ہرشخص کے ساتھ ستر ہزار اور رب تعالٰی کے تین لپ،بعض نے فرمایا کہ یہ معطوف ہےسبعین الفًاپر اوریدخلکامفعول ہے۔یعنی مجھ سے رب نے وعدہ فرمایا کہ تین لپ بھر اور بھی جنت میں بے حساب بھیجے گا مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔لپ سے مراد ہے بے اندازہ کیونکہ جب کسی کو بغیر گنے بغیر تولے ناپے دینا ہوتا ہے تو وہاں لپ بھر بھر کر دیتے ہیں یا کہو کہ یہ حدیث متشابہات میں سے ہے ورنہ رب تعالٰی مٹھی اور لپ سے پاک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5556