Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5561

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي، وَيَخُونُونَنِي، وَيَعْصُونَنِي، وَأَشْتِمُهُمْ وَأَضْرُبهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ، وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذَنْبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ، فَتَنَحَّى الرَّجُلُ وَجَعَلَ يَهْتِفُ وَيَبْكِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَمَا تَقْرَأُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ} " [الأنبياء: 47]، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ، أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ كُلَّهُمْ أَحْرَارٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن عائشة قالت: جاء رجل فقعد بين يدي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله! إن لي مملوكين يكذبونني، ويخونونني، ويعصونني، وأشتمهم وأضربهم، فكيف أنا منهم؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا كان يوم القيامة يحسب ما خانوك وعصوك وكذبوك، وعقابك إياهم، فإن كان عقابك إياهم بقدر ذنوبهم كان كفافا لا لك ولا عليك، وإن كان عقابك إياهم دون ذنبهم كان فضلا لك، وإن كان عقابك إياهم فوق ذنوبهم اقتص لهم منك الفضل، فتنحى الرجل وجعل يهتف ويبكي، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أما تقرأ قول الله تعالى: {ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين} " [الأنبياء: 47]، فقال الرجل: يا رسول الله! ما أجد لي ولهؤلاء شيئا خيرا من مفارقتهم، أشهدك أنهم كلهم أحرار. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص حاضر ہوا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے سامنے بیٹھ گیا عرض کرنے لگا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور میری خیانت کرتے ہیں میری نافرمانی کرتے ہیں میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں ۱∞؎تو ان کے متعلق میرا کیا حال ہوگا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان خیانتوں نافرمانیوں اورجھوٹوں کا اور تیرا انہیں سزا دینے کا حساب لگایا جاوے گا۲؎پھر اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے جرموں کے بقدر ہوگی تو ادلًا بدلًا ہوجاوے گا نہ تجھے مفید نہ مضر ۳؎اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصوروں سے کم ہوگا تو تجھے ان پر بزرگی حاصل ہوگی۴؎اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصور سے زیادہ ہوا تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جاوے گا ۵؎تو وہ آدمی الگ ہٹ گیا اور چیخیں مارنے رونے لگا۶؎تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تو رب کایہ فرمان نہیں پڑھتا کہ ہم قیامت کے دن انصاف والی ترازو رکھیں گے ۷؎تو کوئی جان کچھ بھی ظلم نہیں کی جاوے گی اگر رائی کے دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لائیں گے،ہم کافی حساب لینے والے ہیں۸؎تو وہ شخص بولا یارسول الله میں اپنے اور ان غلاموں کے لیے انکی جدائی سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سارے آزاد ہیں ۹؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس عمل کی وجہ سے میرا کیا حال ہوگا آیا میں اس مارپیٹ گالی گلوچ میں حق بجانب ہوں یا نہیں اور اس کی وجہ سے میری کوئی پکڑ تو نہیں ہوگی۔۲؎یعنی ان غلاموں کے جرم اور تیری سزا کا حساب لگایا جاوے گا کہ دونوں برابر ہیں یا ایک دوسرے سے کچھ کم و بیش ہیں۔معلوم ہوا کہ سزا اور جرم کی حدود مقرر ہیں۔۳؎یعنی چونکہ نہ ان کے جرم کم ہیں نہ تیری سزا زیادہ ہے اس لیے نہ تجھ پر کچھ وبال ہوگا نہ تجھے کوئی ثواب ملے گا حساب برابر رہے گا۔۴؎یعنی اگر غلاموں کے جرم زیادہ ہوئے اور تیری سزا کم تو غلاموں کی پکڑ ہوگی تو تجھے ثواب ملے گا کہ تو نے ان غلاموں کو ان کے جرم سے کم سزا دی ان کے بعض جرموں پر عفو و تحمل سے کام لیا ہے۔۵؎اس فرمان عالی سے حکام،مدرسین و معلمین،خاوندوں،ماں باپ کو عبرت لینی چاہیے اگر یہ لوگ اپنے ماتحتوں کو ان کے جرم سے سزا زیادہ دیں گے تو یقینًا پکڑے جائیں گے۔کبھی استاد غصہ میں اپنے شاگردوں کو بے تحاشا مار دیتا ہے اس کی بھی پکڑ ہے۔علامہ شامی نے فرمایا کہ تین طمانچہ سے زیادہ ہرگز نہ مارے اور طمانچہ بھی منہ پر نہ مارے،بلا قصور ہرگز نہ مارے،بعض لوگ اپنی بیویوں کو بات بات پر مارتے ہیں اور بہت مارتے ہیں ان کی بھی پکڑ ہے ان کے اس عمل کا بھی حساب ہے ہر وقت الله کا خوف دل میں رکھو۔۶؎یہ ہے اس زبان حق ترجمان کی تاثیر کہ دو لفظوں میں اس کے دل کی دنیا بدل دی رب تعالٰی ہم کو بھی حضور کے فرمان پر عمل اور حضور کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین!
۷
؎یعنی حضور نے اپنے فرمان کی تائید قرآن مجید سے پیش کی۔۸؎یہ آیت کریمہ حضور کے فرمان عالی کی حرف بحرف تائید کررہی ہے۔اس آیت میں چند چیزیں فرمائی گئیں: ایک یہ کہ میزان اور اس کے ذریعہ اعمال کا وزن برحق ہے۔دوسرے یہ کہ اس ترازو کے وزن میں کمی بیشی کا شائبہ نہیں،نہ اس میں پاسنگ ہے نہ تولنے والوں میں ڈنڈی مارنے کا اندیشہ۔تیسرے یہ کہ غیرمجرم کو سزا دے دینا یا مجرم کو جرم سے زیادہ سزا دے دینا بھی ظلم ہے الله تعالٰی اس ظلم سے پاک ہے۔ظلم کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ کسی کی چیز اس کی بغیر اجازت تصرف میں لانا۔ظلم کے یہ معنی رب تعالٰی کے لیے ممکن نہیں کہ ہر چیز الله تعالٰی کی ملک ہے۔چوتھے یہ کہ حساب دانہ دانہ اور قطرہ قطرہ کا لیا جاوے گا یہ ہے قانون۔اگر الله تعالٰی کسی کو معافی دے دے حساب نہ لے تو اس کی مہربانی ہے،قانون اور چیز ہے مہربانی کچھ اور،یہاں قانون کا ذکرہے اس آیت میں ہے "یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"لہذا آیتوں میں تعارض نہیں۔۹؎آزاد کرنے کی دو وجہیں ہیں: ایک یہ کہ یہ غلام نہ میرے پاس میری ملکیت میں رہیں گے نہ آئندہ مجھ سے ایسے قصور ہوں گے،ان تمام قصوروں کی وجہ ان لوگوں کا میری ملکیت میں رہنا ہے۔دوسرے یہ کہ غلام آزادکرنا بہت سے گناہوں کاکفارہ بھی ہے،میں ان کو آزادکرتا ہوں تاکہ گزشتہ کوتاہیوں کاکفارہ ہوجائے میں اس آزاد کرنے کی وجہ سے ان گناہوں سے دنیا میں ہی پاک ہوجاؤں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5561