Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5564

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ {يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ} مَا طُولُ هَذَا الْيَوْمِ؟ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَهْوَنَ عَلَيْهِ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ "الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".

وعنه قال: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن {يوم كان مقداره خمسين ألف سنة} ما طول هذا اليوم؟ فقال: "والذي نفسي بيده إنه ليخفف على المؤمن حتى يكون أهون عليه من الصلاة المكتوبة يصليها في الدنيا". رواهما البيهقي في كتاب "البعث والنشور".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے اس دن کے متعلق پوچھا گیا ۱∞؎جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ اس دن کی کتنی درازی ہے ۲؎تو فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ دن مؤمن پر ہلکا کردیا جاوے گا حتی کہ اس پر اس فرض نماز سے بھی زیادہ آسان ہوجاوے گا جسے وہ دنیا میں پڑھتا تھا۳؎(بیہقی کتاب البعث والنشور)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میری موجودگی میں یہ سوال کسی اور نے کیا میں نے سوال بھی سنا حضور کا جواب بھی۔۲؎یعنی کتنی دراز مدت ہےالله اکبر!یہمااظہار تعجب کے لیے ہے۔یارسول الله اس مدت میں لوگوں کا کیا حال ہوگا کیسے کھڑے رہ سکیں گے۔(مرقات)۳؎قرآن مجید میں قیامت کو ایک ہزار سال بھی فرمایا گیا ہے اور پچاس ہزار سال بھی،اس حدیث شریف نے اسے چار رکعت نماز سے بھی کم فرمایا یہ اختلاف احساس کا ہے دن تو پچاس ہزار برس ہی کا ہے مگر کسی کو ایک ہزار سال محسوس ہوگا کسی کو چار رکعت نماز کی بقدر۔کسی کی شب وصل سوتے کٹے ہے کسی کی شب حجر روتے کٹے ہے
الٰہی ہماری یہ شب کیسی آئی نہ سوتے کٹے ہے نہ روتے کٹے ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5564