- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3381
باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3381
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ، مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَادَّعَيَاهُ فَرَطَنَتْ لَهُ تَقُولُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ رَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ:مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ -وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءِ- فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَهِمَا عَلَيْهِ" فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ" فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنَّهُ ذَكَرَ الْمُسْنَدَ، وَرَوَاهُ الدَّارمِيُّ عَن هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ.
عن هلال بن أسامة عن أبي ميمونة سليمان مولى لأهل المدينة قال: بينما أنا جالس مع أبي هريرة، جاءته امرأة فارسية، معها ابن لها، وقد طلقها زوجها، فادعياه فرطنت له تقول: يا أبا هريرة زوجي يريد أن يذهب بابني فقال أبو هريرة: استهما عليه رطن لها بذلك فجاء زوجها وقال:من يحاقني في ابني؟ فقال أبو هريرة: اللهم إني لا أقول هذا إلا أني كنت قاعدا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأتته امرأة فقالت: يا رسول الله! إن زوجي يريد أن يذهب بابني، وقد نفعني وسقاني من بئر أبي عنبة -وعند النسائي: من عذب الماء- فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "استهما عليه" فقال زوجها: من يحاقني في ولدي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هذا أبوك وهذه أمك، فخذ بيد أيهما شئت" فأخذ بيد أمه. رواه أبو داود والنسائي لكنه ذكر المسند، ورواه الدارمي عن هلال بن أسامة.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ہلال ابن اسامہ رضی اللہ عنھما سے وہ ابو میمونہ سلیمان سے راوی ۱؎جو اہلِ مدینہ کے مولیٰ ہیں فرماتے ہیں کہ اس حال میں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت فارسی ان کے پاس آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا اور اسے اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ان دونوں نے بچہ کا دعویٰ کیاعورت نے فارسی میں کلام کیا ۲؎بولی اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچے کو لے جائے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر قرعہ ڈال لو آپ نے فارسی میں یہ فرمایا ۳؎پھر اس کا خاوند آیابولا کہ میرے بچہ میں مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے۴؎تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا الٰہی میں نہیں کہتا ۵؎مگر اس لیے کہ میں بیٹھا ہوا تھا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کہ آپ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی بولی یارسول اﷲمیرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچہ کو لے جائے ۶؎حالانکہ یہ بچہ مجھے آرام پہنچاتاہے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی پلاتا ہے ۷؎اور نسائی کے ہاں کہ میٹھا پانی پلاتا ہے ۸؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر تم دونوں قرعہ ڈال لو تو خاوند بولا میرے بچہ کے متعلق مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے ۹؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تیرا باپ ہےاور یہ تیری ماں ہے تو ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑلیا ۱۰؎(ابوداؤد،نسائی)لیکن نسائی نے مسند کا ذکر کیا اور دارمی نے ہلال ابن اسامہ سے روایت کی۔
شرح حدیث
۱∞؎ہلال ابن اسامہ تبع تابعی ہیں،ثقہ ہیں اور ابومیمونہ تابعی ہیں،ان کے نام میں اختلاف ہے یا سلمان ہے بغیریکے یا سلیمان ہےیکے ساتھ یا سلیم ہے یا سلمہ یا اسامہ،صاحب مشکوۃ کے نزدیک سلیمان ہے ی سے،خیال رہے کہ ہلال کے والد کا نام علی ابن اسامہ ہے تو اسامہ ہلال کے دادا ہیں،یہاں دادا کی طرف منسوب ہیں قبیلہ بنی فہر سے ہیں۔(مرقات وغیرہ)
۲؎رطنت رطانۃٌسےرطانۃٌوہ کلام کرنا جو عام طور پر سمجھا نہ جاسکے یعنی غیر ملکی زبان میں گفتگو اسی لیے عرب لوگ عجمی بول چال کو رطانۃ کہتے ہیں،یہاں فارسی گفتگو مراد ہے کہ عرب کے لیے وہ غیر ملکی زبان ہے۔غالب یہ ہے کہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے یہ عورت مدینہ منورہ میں رہتی تھی مگر گفتگو فارسی میں کرتی تھی یا عربی فارسی ملی جلی بولتی تھی۔
۳؎ظاہر یہ ہے کہ رطن کا فاعل جناب ابوہریرہ ہیں مدینہ منورہ میں فارسی لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے صحابہ کرام فارسی سمجھ بھی لیتے تھے اور کچھ بول بھی لیتے تھے جیسے آج وہاں کے باشندے عمومًا اردو بولتے سمجھتے ہیں،بعض نے فرمایا کہ درمیان میں ترجمان تھا رطن کا فاعل وہ ترجمان ہی ہے۔
۴؎یعنی اس کے خاوند کو دعویٰ کا پتہ چلا تو جواب دعویٰ کے لیے وہ حضرت ابوہریرہ کے پاس آیا جب کہ اس کی بیوی وہاں ہی موجود تھی اس کا کہنا یہ تھا کہ قرعہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے بچہ باپ کا ہوتا ہے کہ اس سے نسب چلتا ہے لہذا میں ہی اس کا مستحق ہوں۔
۵؎آپ کااللّٰہمفرمانا رب تعالٰی کو گواہ بنانے کے لیے تھا گویا ایک طرح کی قسم تھی یعنی خدایا تو گواہ ہے میں تیری قسم کھاتا ہوں۔
۶؎یعنی آج کا یہ واقعہ بالکل اسی واقعہ کی مثل ہے جو بارگاہِ رسالت میں پیش ہوا تھا وہ ہی صورت ہے وہ ہی نوعیت۔
۷؎عنبہ عین کے کسرہ نون و ب کے زبر سے کوئی خاص کنواں تھا مدینہ منورہ میں جس کا پانی بہت اچھا تھا اب وہ کنوان نہیں،مقصد یہ ہے کہ اگر یہ بچہ میرے پاس نہ رہا تو مجھے کوئی پانی لا کر دینے والابھی نہیں ہے،مجھے اس بچہ کی سخت ضرورت ہے۔
۸؎عذب الماءمیں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے،اصل میںماء عذبتھا۔
۹؎یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلہ پر ناراضی نہیں بلکہ اپنی مطلقہ بیوی پر ناراضی ہے لہذا اس شخص کوا س عرض معروض پر کافر یا مجرم نہیں کہہ سکتے مقدمہ میں فریقین اپنے دلائل بیان کیا ہی کرتے ہیں۔
۱۰؎بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بچہ کو اختیار دے کر بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی کہ مولیٰ بچہ اسی کو اختیار کرے جس کے پاس رہنا بچہ کو مفید ہو۔ابوداؤد میں کتاب الطلاق میں اور نسائی نے کتاب الفرائض میں عبدالحمید ابن جعفر عن ابیہ عن جدہ رافع ابن خدیج سے روایت کی کہ میں مسلمان ہوگیا اور میری بیوی کافرہ رہی،اسلام سے انکاری ہوگئی،تب اسی بچہ کا واقعہ پیش ہوا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے باپ کو علیٰحدہ بٹھایا ماں کو علیٰحدہ اور بچہ کو اختیار دیا اور دعا کی الٰہی اس بچہ کو توفیق دے کہ اپنے باپ کو اختیار کرے پھر فرمایا کہ دونوں اس بچہ کو بلاؤ،چنانچہ ان دونوں نے بلایا تو بچہ نے باپ کو اختیار کیا۔دارقطنی نے فرمایا کہ یہ بچی تھی اور اس کا نام عمیرہ تھا مگر یہ واقعہ دوسرا ہوگا کیونکہ بالغہ لڑکی کو پردہ کی بنا پر اور چھوٹی بچی کو کنویں پر گر جانے کے خطرہ سے کنویں میں نہیں بھیجا جاتا،صحابہ کرام نے بچہ کو اختیار نہ دیا۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3381