Main Icon

باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3379

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خير غلاما بين أبيه وأمه. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لڑکے کو ۱؎اس کے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎لڑکے سے مراد بالغ لڑکا ہے مجازًا اسے غلام فرمایا گیا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ"یا باہوش سمجھ دار بچہ مراد ہے۔(مرقات)
۲
؎یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے ان کے ہاں سمجھ دار بچے کو اختیار دیا جاتاہے،ہمارے ہاں سات سال کا سمجھ دار بچہ باپ کو ملے گا کیونکہ اب اس کی تربیت و تعلیم کا زمانہ ہے یہ کام باپ ہی کرسکتا ہے،ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں باپ نماز کا حکم اسے جب ہی دے سکتا ہے جب بچہ اس کی پرورش میں ہو ہمارے ہاں یہ حکم خصوصی ہے یا منسوخ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3379