Main Icon

باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3378

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهٖ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً،وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي". رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ.

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو: أن امرأة قالت: يا رسول الله! إن ابني هذا كان بطني له وعاء، وثديي له سقاء،وحجري له حواء، وإن أباه طلقني وأراد أن ينزعه مني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أنت أحق به ما لم تنكحي". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداابن عمرو سے راوی کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول ایہ میرا بچہ ہے کہ میرا پیٹ اس کا برتن تھا اور میرے پستان اس کے مشکیزے ۱؎اور میری گود اس کی آرام گاہ ۲؎اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کی مستحق تو ہے جب تک اپنا نکاح نہ کر لو۳؎(احمد)۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کہ میں نے اسے نو مہینہ اپنے پیٹ میں رکھا ا ور دو سال اسے اپنے پستان چوسائے دودھ پلایا۔
۲
؎حواءح کے کسرہ سے بمعنی خیمہ جو جنگل میں عارضی قیام کے لیے لگایا جائے،چونکہ ماں کی گود بچہ کا عارضی مقام ہے اس لیے اسے خیمہ سے تشبیہ دی،یہ بی بی بڑی فصیحہ تھیں۔
۳
؎یہ بچہ بہت چھوٹا تھا جس میں عقل و ہوش و تمیز نہ تھی اس لیے اسے اختیار نہ دیا گیا بلکہ ماں کو مرحمت ہوا،اگلی آنے والی حدیث میں بچہ سمجھ دار تھا اس لیے اسے اختیار دیا گیا لہذا حدیث میں تعارض نہیں، حالات کے اختلاف سے احکام مختلف ہوجاتے ہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ چھوٹے بچہ کی پرورش کی مستحق ماں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر ماں بچے کے اجنبی شخص سے نکاح کرے تو اس کایہ استحقاق جاتا رہے گا،پھر بچہ باپ کو ملے گا ہاں اگر اس نے بچہ کے چچا وغیرہ ذی رحم سے نکاح کیا تو اس کا حق پرورش باقی رہے گا۔(دیکھو کتب فقہ)
۴
؎یہ حدیث حاکم نے بھی نقل فرمائی اور اسے صحیح کہا۔خیال رہے کہ یہ عمرو،عمرو ابن شعیب ابن محمد ابن عبداابن عمرو ابن عاص ہیں،اگر جد سے مراد محمد ہوں تو حدیث مرسل ہوتی ہے اور اگر جد سے مراد عبداللہ ابن عمرو ہوں تو حدیث متصل،کیونکہ محمد تابعی ہیں اور عبداابن عمرو صحابی،اسی لیے جہاں فقط جدہ ہوتا ہے وہاں ارسال و اتصال دونوں کا احتمال ہوتا ہے،یہاں چونکہ عبداکی تصریح ہے لہذا حدیث متصل ہے،یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے کہ چھوٹے بچہ کی پرورش ماں کا حق ہے۔چنانچہ مؤطا امام مالک اور عبدالرزاق و بیہقی میں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی ایک انصاری بیوی کو طلاق دی جس کے بطن سے ایک بچہ عاصم تھا حضرت عمر نے اسے لینا چاہا نانی نے انکار کیا مقدمہ بارگاہِ صدیقی میں پیش ہوا تو آپ نے نانی کے حق میں فیصلہ فرمایا،بچہ سمجھ دار تھا اسے کھیلتے ہوئے حضرت عمر نے اٹھالیا،یہ حدیث بہت طریقوں سے منقول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3378