Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2756

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن ابن عمر مرفوعا: «من حج فزار قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي". رواهما البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا کہ جو میری وفات کے بعد حج کرے پھر میری قبر کی زیارت کرے ۱؎وہ اسی طرح ہوگا جو میری زندگی میں میری زیارت کرے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎فسے معلوم ہوتا ہے کہ حج پہلے کرے مدینہ پاک بعد میں حاضر ہو۔علماءکرام نے فرمایا کہ حج فرض میں پہلے حج کرنا افضل ہے اور حج نفل میں پہلے زیارت مدینہ طیبہ بہتر ہے تاکہ مدینہ پاک سے حج کے لیے رخصت ہو نہ کہ گھر جانے کے لیے یہ تفصیل بہت اعلٰی ہے،بعض عشاق حج نفل میں زیارت کی نیت سے گھر سے چلتے ہیں راستہ میں مکہ مکرمہ پڑتاہے تو حج بھی کرلیتے ہیں۔شعر
کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا کسی نے ہم کو نہضت کدھر کی ہے
کعبہ بھی ہے انہیں کی تجلی کا ایک ظل
روشن انہیں کے نور سے پتلی حجر کی ہے
۲
؎یہ اس لیے ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنی قبر انور میں بحیات حقیقی دنیاوی زندہ و حیات ہیں کہ آپ سے ہر طرح کی مدد و نصرت حاصل کی جاتی ہے۔(مرقات و لمعات و اشعہ)شہداء کی حیات معنوی ہے حضور انور کی حیات حقیقی دنیاوی ہے کہ رزق بھی ملتا ہے۔ (اشعہ)
ہم
حیات النبیکی بحثباب الجمعہمیں کرچکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2756