Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2747

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهٗ ثِيَابَهٗ فَجَاءَهٗ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هٰذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ» . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن سليمان بن أبي عبد الله قال: رأيت سعد بن أبي وقاص أخذ رجلا يصيد في حرم المدينة الذي حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلبه ثيابه فجاءه مواليه فكلموه فيه فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم هذا الحرم وقال: «من أخذ أحدا يصيد فيه فليسلبه» . فلا أرد عليكم طعمة أطعمنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن إن شئتم دفعت إليكم ثمنه. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن ابی عبداللّٰه سے فرماتے ہیں میں نے سعد ابن ابی وقاص کو دیکھا کہ آپ نے اس شخص کو پکڑ لیا جو حرم مدینہ میں شکار کررہا ہے جسے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حرم بنایا ہے ۱؎تو آپ نے اس کے کپڑے اتارلیے پھر اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ سے کلام کیا آپ نے فرمایا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس حرم کو حرم قرار دیا اور فرمایا کہ جو یہاں کسی کو شکار کرتے ہوئے پکڑے تو اس کے کپڑے چھین لے لہذا وہ مال میں تم کو واپس نہ دوں گا جو مجھے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عطا کیا لیکن اگر تم چاہو تو تمہیں اس کی قیمت دے دوں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مدینہ منورہ کے حدود جسے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حرم مدینہ قرار دیا جس کی حرمت و احترام واجب ہے اس کے حرمت کا لحاظ رکھتے ہوئے حضرت علی نے کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنایا اور حضرت حسین کربلا چلے گئے تاکہ ہماری وجہ سے حرم مدینہ میں خون خرابہ نہ ہو، حضرت عثمان نے مصر والوں کا نہ خود مقابلہ کیا نہ اپنے کسی غلام کی مقابلہ کی اجازت دی بلکہ صبر سے جام شہادت پی لیا یہ اس حرمت کا لحاظ تھا۔
۲
؎اس کی نہایت نفیس تحقیق ابھی کچھ پہلے اس جیسی حدیث کی شرح میں گزرگئی کہ یہ حدیث ہی بتارہی ہے کہ حرم مدینہ کے شکار کا حکم مکہ معظمہ کے شکار کی طرح نہیں کہ مکہ کے شکار کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہوتی ہے نہ کہ شکاری کے کپڑے چھین لینا اور چھین کر خود آپ مالک بن جانا،حضرت سعد نے یہ حدیث اپنے ظاہری معنے پر محمول کی،یہ ان کا اجتہاد ہے ورنہ کسی صحابی کسی امام کا مذہب یہ نہیں کہ جوکسی کو حدود مدینہ میں شکار کرتے دیکھے وہ اس کے کپڑے چھین کر خود اپنے استعمال میں لائے،ہم اس چھیننے کے معنے پہلے عرض کرچکے ہیں۔خیال رہے کہ اسلام میں کسی جرم پر مالی جرمانہ کرنا حرام ہے کہ مجرم سے کچھ پیسے لےکر اپنے خرچ میں لاؤ پھر آپ کا یہ فرمانا کہ میں اس کی قیمت واپس دے سکتا ہوں یہ اور بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ حرم مدینہ کے شکار کے احکام مکہ معظمہ کے شکار کے سے نہیں کہ وہاں کاشکاری فقراء کو صدقہ دے کر صدقہ کی قیمت ان سے نہیں لے سکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2747