Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2731

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهٖ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهٗ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اَللّٰهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهٗ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَمِثْلَهٗ مَعَهٗ » . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهٗ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: كان الناس إذا رأوا أول الثمرة جاءوا به إلى النبي صلى الله عليه وسلم فإذا أخذه قال: «اللهم بارك لنا في ثمرنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا وبارك لنا في مدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك لمكة ومثله معه » . ثم قال: يدعو أصغر وليد له فيعطيه ذلك الثمر. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ لوگ جب پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں لاتے تھے ۱؎جب حضور اسے لیتے تو فرماتے الٰہی ہمارے پھلوں میں ہمارے لیے برکت دے ہمارے مدینہ میں برکت دے ۲؎ہمارے صاع میں ہمارے مد میں ہمارے واسطے برکت دے ۳؎الٰہی ابراہیم تیرے بندے تیرے خلیل تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ تیرا نبی ہوں ۴؎انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی ۵؎اور میں مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جیسی انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی اور اتنی ہی اس کے ساتھ اور ۶؎فرمایا پھر کسی چھو ٹے بچے کو بلاتے اسے یہ پھل عطا فرمادیتے ۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی باغ والے اپنے باغ کا پہلا پھل،یوں ہی مدینہ والے جب بازارمیں نیا پھل دیکھتے تو حضور انور کی خدمت میں ہدیۃً لاتے تاکہ باغ میں اور گھروں میں برکت رہے،بعض لوگ پہلے پھل پر فاتحہ دےکر بچوں میں تقسیم کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،فاتحہ میں ثواب کا نذرانہ ہوتا ہے اگر ہم کو وہ میسر نہ ہوا تو ہدیہ ثواب ہی کریں۔
۲
؎یعنی مدینہ کی آبادی میں بھی برکت دے اور یہاں کے پھل فروٹ میں بھی حضور کی دعائیں قبول ہوئیں۔چنانچہ زمانہ فاروقی میں مدینہ میں چالیس ہزار سوار فوجی تھے، پیادے ان کے علاوہ دوسری آبادی ان کے سواء اور وہاں کے پھلوں کی برکت تو مشہور ہی ہے۔(مرقات)
۳
؎صاعو مد سے مراد ان پیمانوں میں نپنے والے دانہ ہیں جیسے گندم جو وغیرہ،پھلوں کی برکت کی دعا پہلے گزر گئی اور غلہ کی برکت کی دعا یہ ہے،ہمارے لیے فرما کر یہ بتایا کہ یہ برکتیں مسلمانوں کے لیے ہوں۔
۴
؎حضور انور نے حضرت ابراہیم کے خلیل ہونے کا تو ذکر فرمایا مگر اپنے حبیب ہونے کا ذکر نہ فرمایا تواضع و انکسار کے لیے۔خلیل وہ جو رب کی مانے،حبیب وہ کہ رب اس کی مانے،خلیل بیرونی دوست،حبیب اندرونی دوست،دوستوں سے ملاقات پردہ کے باہر ہوتی ہے حبیب سے ملاقات پردہ کے اندر۔شعر
تم تو مغز اور پوست اور ہیں باہر کے دوست تم ہو درون سراتم پہ کروڑوں درود
نبی و رسول کبھی ہم معنے ہوتے ہیں اور کبھی نبی رسول سے عام نبوت میں رب تعالٰی سے فیض لیتا ہے اور رسالت میں دوسروں کو فیض دیتا ہے۔حق یہ ہے نبوت سے رسالت افضل ہے رسول تین سو تیرہ ہیں،نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم و بیش،نبی کی ولایت ان کی نبوت سے بعض کے نزدیک افضل ہے،بعض کے ہاں برعکس۔(مرقات)
۵
؎جناب خلیل نے مکہ معظمہ کے لیے دعا کی تھی"فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھۡوِیۡۤ اِلَیۡھِمْ وَارْزُقْهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُوۡنَ"خدایا لوگوں کے دل مکہ معظمہ کی طرف مائل فرمادے اور یہاں کے باشندو ں کو پھل دے تاکہ وہ شکر ادا کریں۔
۶
؎اور سے مراد صرف دوگنی نہیں بلکہ کئی گنی یعنی مدینہ کی طرف لوگوں کے دل خوب مائل کردے اور یہاں بہت پھل فروٹ پیدا فرما،برکتیں دے،اس دعا شریف کا اثر آج بھی دیکھا جارہا ہے کہ مکہ معظمہ سے زیادہ مدینہ پاک کی طرف لوگوں کا میلان قلبی ہے،مدینہ کی تعریف میں ہزار ہا قصیدے لکھے گئے،وہاں کا سا پانی،کھانا پھل اور جگہ دیکھے نہ گئے۔
۷
؎اس حدیث سے پہلے پھل پر،پھل سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا بچوں میں تقسیم کرنا سب کچھ ثابت ہے کہ حضور انور پھل سامنے رکھ کر یا ہاتھ میں لے کر یہ دعا پڑھتے تھے،فاتحہ میں کھانا،پھل سامنے ہوتے ہیں،ایصال ثواب اور دعائیہ کلمات کہے جاتے ہیں،حضور انور نے بچہ کو یہ پھل دیئے،اب بھی بچوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2731