Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2740

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تنفي المدينة شرارها كما ينفي الكير خبث الحديد . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ مدینہ منورہ برے لوگوں کو یوں نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل نکال دیتی ہے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ظہور دجّال کے زمانہ کا واقعہ ہے،دجّال تو مدینہ منورہ میں نہ داخل ہوسکے گا مگر مدینہ پاک میں زلزلہ سا ہوگا جس سے منافقین یہاں سے بھاگ جائیں گے اور دجّال کے جال میں پھنس جائیں گے۔مخلصین نہ نکلیں گے یہ ہوگی مدینہ پاک کی چھانٹ۔ہوسکتا ہے کہ اس سے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا زمانہ ہی مراد ہوکیونکہ حضور کی تشریف آوری بھی علامت قیامت ہے یعنی چونکہ اب قیامت قریب آگئی اس لیے مدینہ منورہ کی یہ تاثیر ظاہر ہونے لگی۔(مرقات)مگر پہلے معنے زیادہ واضح ہیں۔شرارسے مراد منافقین اور مدینہ کے غیر مناسب لوگ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2740