Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2745

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهٗ أُحُدٌ فَقَالَ: «هٰذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهٗ اَللّٰهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم طلع له أحد فقال: «هذا جبل يحبنا ونحبه اللهم إن إبراهيم حرم مكة وإني أحرم ما بين لابتيها»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سامنے احد چمکا ۱؎تو فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۲؎یقینًا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کے گوشوں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں ۳؎(بخاری، مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو سرکار عالی سفر سے لوٹ رہے تھے کہ احد نمودار ہوا یا مدینہ منورہ ہی میں ایک بار احد پر نظر پڑی اور یہ فرمایا۔احد شریف مدینہ پاک سے بجانب مشرق تقریبًا تین میل دور ایک پہاڑ ہے مدینہ منورہ خصوصًا جنت البقیع سے صاف نظر آتا ہے،وہاں شہداء احد خصوصًا سید الشہداء امیر حمزہ کے مزارات ہیں،زائرین جوق در جوق اس پہاڑ کی زیارت کرتے ہیں،میں نے حجاج کو اس پہاڑ سے لپٹ کر روتے اور وہاں کے پتھروں کو چومتے دیکھا ہے۔ہر مؤمن کے دل میں قدرتی طور پر اس کی محبت ہے۔
۲
؎بعض ظاہر بین شارحین نے کہا ہے کہ اس سے احد کے باشندوں کی محبت مراد ہے مگر حق یہ ہے کہ خود پہاڑ ہی حضور سے محبت کرتا ہے،لکڑیوں پتھروں میں احساس بھی ہے اور محبت و عداوت کا مادہ بھی،حضور کے فراق میں اونٹ بھی روئے اور لکڑیوں نے بھی گریہ و زاری و فریاد کی ہے۔(لمعات،مرقات،محی السنہ)لہذا حق یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم احد پہاڑ سے،اس علاقہ سے،وہاں کے پتھروں سے محبت فرماتے ہیں اور یہ تمام چیزیں بعینہ حضور سے محبت کرتی ہیں،احادیث سے ثابت ہے کہ حضور انور احد پر چڑھے تو احد کو وجد آگیا اور وہ جھومنے لگا۔
۳
؎یعنی ابراہیم علیہ السلام نے حدود مکہ معظمہ کو اپنی دعا سے حرم بنایا یا اس کی حرمت کو ظاہر فرمایا ورنہ وہ حرم تو خدا تعالٰی کے حکم سے ہے اور پہلے سے ہی ہے اور میں حدود مدینہ کو اپنے اختیار خداداد سے حرم بناتا ہوں اس سے پہلے مدینہ حرم نہ تھا نہ اس کی حرمت قرآن پاک میں مذکور ہے۔مدینہ کو حرم بنانے کے معنے وہ ہی ہیں جو پہلے عرض کیے گئے کہ اس مقدس مقام کی تعظیم و توقیر واجب ہے،اسے اجاڑنے ویران کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے،یہاں شکار وغیرہ مکروہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2745