Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2729

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عَضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا " وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانوُا يَعْلَمُونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللّٰهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلٰى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهٗ شَفِيعًا أَو شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إني أحرم ما بين لابتي المدينة: أن يقطع عضاهها أو يقتل صيدها " وقال: «المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه ولا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ میں مدینہ کے دو کناروں کے درمیان یہاں سے کانٹے کاٹنا یا یہاں کا شکار قتل کرنا حرام کرتا ہوں ۱؎فرمایا مدینہ مسلمانوں کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے ۲؎ایسا کوئی نہیں جو مدینہ سے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑے مگر اللّٰه اس مدینہ میں اس کو اچھا رہنے والا بسائے گا۳؎اور کوئی شخص مدینہ کی سختی اور بھوک پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث ان محدثین و فقہاء کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں کہ حرم مدینہ کے حدود میں شکار کرنا خود رو درخت کاٹنا حرام تو ہے مگر اس کی جزا واجب نہیں۔ہم عرض کرچکے ہیں کہ شکار کی حلت قرآنی آیات سے ثابت ہے لہذ اس کی حرمت اس جیسی ظنی حدیث سے ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ دوسری احادیث اس کے خلاف ہیں۔لابہ پتھریلی زمین کو کہتے ہیں،مدینہ منورہ کے آس پاس کی زمین پتھریلی ہے،عضاۃدرخت خار دار کو۔
۲
؎یعنی اگر شام وغیرہ سرسبز ملکوں میں دنیاوی آرام زیادہ ہیں مگر جس مسلمان کو مدینہ پاک میں رہنا سہنا نصیب ہوجائے تو اس کی خوش نصیبی ہے وہ اسے تمام سرسبز ملکوں سے بہتر جانے۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ ہمیشہ آباد رہے گا کبھی ویران نہ ہوگا،اگر کوئی قوم یا جماعت اسے چھوڑ بھی جائے تو دوسری قوم اسے آباد کرے گی،یہاں رہنے والے بہت ہیں جو یہاں آباد ہونے کی آرزو کرتے ہیں،یہ خبر بالکل برحق ہے جس کا ثبوت مشاہدہ سے ہورہا ہے، کتنے کنبے اور کتنی قومیں ہیں جو وہاں آباد ہوگئیں اور کتنے سینے ہیں جن میں وہاں کی تڑپ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ "۔حق یہ ہے کہ یہ قانون قیامت تک کے لیے ہے۔۴؎لاواءاورجہدیا ہم معنے ہیں یا قریب المعنے یعنی جو مدینہ منورہ کی غربت و بے کسی کی زندگی یہاں کی تکالیف و قحط و بھوک پر صبر کرکے حضور کے قدموں میں پڑا رہے گاان شاءاللّٰهاس کا خاتمہ بخیر ہوگا اور حضور انور اس کے گناہوں کی شفاعت نیکیوں کی گواہی ادا فرمائیں گے یا حضور انور اپنے زمانہ میں مرنے والوں کی گواہی اور بعد میں وہاں مرنے والوں کی شفاعت کریں گے اگرچہ حضور اپنے ہر امتی کے گواہ بھی ہیں اور شفیع بھی مگر مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت بھی خصوصی ہوگی اور گواہی بھی خصوصی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان حرمین طیبین خصوصًا مدینہ منورہ میں رہنے مرنے کو رب تعالٰی کی اعلٰی نعمت جانے،اگر یہ مٹی وہاں کی پاک مٹی سے مل جائے تو اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے۔شعر
پس مرگ مری مٹی ٹھکانے خوب لگ جاتی
میسر گر مجھے دو گز مدینہ کی زمیں ہوتی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2729