Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2748

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صَالِحٍ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ: مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهٗ سَلَبُهٗ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن صالح مولى لسعد أن سعدا وجد عبيدا من عبيد المدينة يقطعون من شجر المدينة فأخذ متاعهم وقال يعني لمواليهم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى أن يقطع من شجر المدينة شيء وقال: من قطع منه شيئا فلمن أخذه سلبه . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صالح سے جو سعد کے غلام ہیں ۱؎کہ حضرت سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ منورہ کے درخت کاٹتے دیکھا تو آپ نے ان سب کا سامان چھین لیا۲؎اور ان کے مولاؤں سے فرمایا کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سنا۳؎کہ آپ مدینہ منورہ کے کسی درخت کے کاٹنے سے منع فرماتے تھے اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو ان میں سے کچھ بھی کاٹے تو پکڑنے والے کے لیے ہے اس کا سامان۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں مؤلف یا کاتب سے غلطی ہوئی ہے اصل عبارت یوں ہےعن صالح عن مولٰی سعدعنرہ گیا یعنی صالح نے حضرت سعد کے غلام سے روایت کی صالح خود حضرت سعد کے غلام نہیں بلکہ تُوامہ کے غلام ہیں،صالح خود تو ثقہ ہیں مگر سعد کے اس غلام کا پتہ نہیں جو ان کا شیخ ہے کہ وہ کیسا ہے لہذا یہ حدیث مجہول ہے۔(مرقات)اسماء الرجال کی کتب سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت سعد کا کوئی غلام صالح نامی تھا، لہذا یہ حدیث اصل سے ہی مجروح ہے۔
۲
؎یعنی درخت کاٹنے والے کے صرف کپڑے نہ چھینے بلکہ کلہاڑی،رسی اور اگر بکریاں وغیرہ ساتھ تھیں تو وہ بھی۔لطف یہ ہے کہ غلام کا مال دراصل مالک کا ہوتا ہے تو لازم یہ آیا کہ جرم تو کیا غلام نے اور جرمانہ ہوا اس کے مالک پر اس کا سارا مال ضبط ہوا۔
۳
؎اس غلام کے مولاؤں نے آپ سے اپنے مال کا مطالبہ کیا ہوگا کہ یہ واپس فرمادیں تب یہ فرمایا۔
۴
؎یعنی جیسے جہاد میں جو غازی کسی کافر کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اس غازی کا ہوگا ایسے ہی حرم مدینہ کا جو شخص درخت کاٹے تو اس کا سامان پکڑنے والے کا ہوگا،اس کا مطلب پہلے عرض کیا جاچکا ہے اگر حدیث ظاہری معنے پر بھی ہو تب بھی یہ سامان خود اس شکاری غلاموں کا نہ تھا بلکہ ان کے آقاؤں کا تھا وہ مجرم نہ تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2748