Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2750

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من استطاع أن يموت بالمدينة فليمت بها، فإني أشفع لمن يموت بها» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو مدینہ میں مرسکے وہ وہاں ہی مرے کیونکہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا ۱؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے حسن بھی ہے،صحیح بھی ہے اور غریب بھی۲؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ بشارت اور ہدایت سارے مسلمانوں کو ہے نہ کہ صرف مہاجرین کو یعنی جس مسلمان کی نیت مدینہ پاک میں مرنے کی ہو وہ کوشش بھی وہاں ہی مرنے کی کرے کہ خدا نصیب کرے تو وہاں ہی قیام کرے،خصوصًا بڑھاپے میں اور بلا ضرورت مدینہ پاک سے باہر نہ جائے کہ موت و دفن وہاں کا ہی نصیب ہو۔حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ دعا کرتے تھے کہ مولٰی مجھے اپنے محبوب کے شہر میں شہادت کی موت دے،آپ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہسبحان اللّٰه! فجر کی نماز مسجد نبوی محراب النبی،مصلےٰ نبی اور وہاں شہادت۔ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ تیس چالیس سال سے مدینہ منورہ میں ہیں،حدود مدینہ بلکہ شہر مدینہ سے بھی باہر نہیں جاتے اسی خطرہ سے کہ موت باہر نہ آجائے، حضرت امام مالک کا بھی یہ ہی دستور رہا،یہاں شفاعت سے مرادخصوصی شفاعت ہے،گنہگاروں کے سارے گناہ بخشوانے کی شفاعت اور نیک کاروں کے بہت درجے بلند کرنے کی شفاعت،ورنہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنی ساری ہی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔خیال رہے کہ مدینہ پاک میں رہنا بھی افضل وہاں مرنا بھی اعلٰی اور وہاں دفن ہونا بھی بہتر،بعض صحابہ بعد موت مدینہ میں لاکر دفن کیے گئے۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مدینہ پاک میں مرے دفن ہونے کی کوشش کرے وہان شاءاللّٰهایمان پر مرے گا کیونکہ اس کے لیے شفاعت خاص کا وعدہ ہے اور شفاعت صرف مؤمن کی ہوسکتی ہے۔(ازمرقات)
۲
؎یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں میں صحیح ہےبعض میں حسن،بعض میں غریب۔علماء فرماتے ہیں کہ بمقابلہ حجوں کے بقیع میں دفن ہونا افضل ہےکہ یہ قبرستان روضہ اطہر سے قریب ہے اس میں بہت صحابہ کے مزارات ہیں،جتنا ان سے قرب ہو اتنا ہی اچھا۔(مرقات)شعر
مٹی عزیز بلبل بے بال و پر کی ہے
یہ فقیر گنہگار شرم سار احمد یار بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ صدقہ اپنے محبوب اکبر صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا مجھے رب تعالٰی مدینہ پاک کا قیام،وہاں کی مسجد نبوی شریف کا اعتکاف،وہاں کی موت،وہاں کا دفن نصیب کرے اگر وہاں دفن میسر ہوجائے تو میری مٹی عزیز ہو جائے۔
آمین یا رب العلمین وصلی اللّٰه علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلمشعر۔
در کو تکتے تکتے ہوجاؤں ہلاک
وہاں کی خاک پاک سے مل جائے خاک

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2750