Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2739

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهٗ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبٰى ثُمَّ جَاءَهٗ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبٰى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبْثَهَا وَیَنصَعُ طَيِّبَهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر بن عبد الله: أن أعرابيا بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأصاب الأعرابي وعك بالمدينة فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد أقلني بيعتي فأبى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم جاءه فقال: أقلني بيعتي فأبى ثم جاءه فقال: أقلني بيعتي فأبى فخرج الأعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إنما المدينة كالكير تنفي خبثها وینصع طيبها»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللّٰه سے کہ ایک بدوی نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بیعت کی ۱؎پھر اسے مدینہ منورہ میں بخار آگیا ۲؎تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا یا محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم میری بیعت فسخ فرمادیجئے ۳؎رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انکار کیا ۴؎وہ پھر حاضر ہوا بولا میری بیعت فسخ کردیجئے ۵؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انکار کیا وہ پھر آیا بولا میری بیعت فسخ فرمادیجئے حضور نے انکار کیا وہ بدوی آخر چلا گیا۶؎تب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو لوہے کے میل کو دور کردیتی ہے اور اچھے کو خالص کرلیتی ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک دیہاتی آدمی ایمان لایا،پھر اس نے ہجرت پر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بیعت کی کہ میں اپنے وطن میں جو دارالکفر ہے قیام نہ رکھوں گا بلکہ مدینہ منورہ آپ کے قدموں میں آن بسوں گا۔
۲
؎وہ بے وقوف سمجھا کہ مدینہ کی آب و ہوا مجھے موافق نہیں اور یہ بیعت مجھے راس نہ آئی جس سے میں بیمار ہوگیا اس لیے اس نے اگلا کلام عرض کیا۔
۳
؎اور مجھے اجازت دیجئے کہ اسلام سے پھر جاؤں یا اپنی ہجرت توڑ کر اپنے وطن چلا جاؤں۔
۴
؎کیونکہ پہلی صورت میں تو فسخ بیعت سے اسے ارتداد کی اجازت دینا لازم ہوگا اور دوسری صورت میں مہاجر کو ہجرت ختم کردینے کی اجازت ہوگی،پہلی جز کفر ہے دوسری جز حرام،فتح مکہ کے بعد بھی حضور انور نے کسی مہاجر کو مکہ معظمہ بسنے کی اجازت تو کیا وہاں تین دن سے زیادہ بلا ضرورت رہنے کی اجازت نہ دی۔
۵
؎وہ سمجھا یہ تھا کہ جیسے بیع،نکاح بعض صورتوں میں فسخ ہوجاتے ہیں ایسے ہی بیعت اسلام یا بیعت ہجرت بھی فسخ ہوسکتی ہے اس لیے بار بار یہ کہتا رہا۔ظاہر یہ ہے کہ وہ مرتد ہونا نہ چاہتا تھا بلکہ ہجرت چھوڑنا چاہتا تھا ورنہ واجب القتل ہوتا کہ کفر و ارتداد کا ارادہ کرلینا بھی کفر ہے۔
۶
؎یعنی بغیر اجازت ہی مدینہ منورہ سے نکل گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الحال اس کا ارادہ ترک اسلام نہ تھا ترک ہجرت تھا اس کی وہ اجازت مانگتا تھا۔
۷
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین مدینہ میں کھوٹوں کو نکالنے،کھروں کو چھانٹ لینے کی تاثیر اول ہی سے ہے اور آخر تک رہے گی صرف قریب قیامت نہ ہوگی،جو منافقین یا یہود وہاں ہی مرکر وہاں ہی دفن ہوگئے ان کی نعشیں وہاں سے نکال دی گئیں۔غرضکہ زمین مدینہ کسی خبیث کو اس کی زندگی میں ہی نکال دیتی ہے کسی کو بعد موت لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،ہاں قریب قیامت اس چھانٹ کا خصوصی اثر نمودار ہوگا جسے ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا لہذا یہ حدیث اگلی آنے والی حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2739