Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2732

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلَفٍ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن إبراهيم حرم مكة فجعلها حراما وإني حرمت المدينة حراما ما بين مأزميها أن لا يهراق فيها دم ولا يحمل فيها سلاح لقتال، ولا تخبط فيها شجرة إلا لعلف » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا ۱؎اسی کے لیے احرام بنایا ۲؎اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں ۳؎اس کے گوشوں کے درمیان کو ۴؎کہ اس میں نہ خون بہایا جائے نہ اس میں جنگ کے لیے ہتھیار اٹھایا جائے ۵؎نہ بجز چارے کے یہاں کا درخت کاٹا جائے ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ آپ نے مکہ معظمہ کو حرم بنانے کی رب سے دعا کی اور رب نے آپ کی دعاء سے حرم بنایا،چونکہ آپ کی دعا حرم بننے کا سبب ہوئی اس لیے گویا انہوں نے ہی حرم بنایا لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ اللّٰه تعالٰی نے خود ہی اسے حرم بنایا جب کہ آسمان و زمین پیدا فرمائے،حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے اس کے وہ احکام جاری ہوئے جو آج بھی باقی ہیں یعنی یہاں کے شکار کرلینے پر قیمت کا فدیہ واجب ہونا،باقی اس بقعہ پاک کا احترام وہ تو ابتداء خلق سے ہورہا ہے اس لیے اس کے حرم بنانے کی نسبت حضرت خلیل کی طرف درست ہے۔
۲
؎یعنی مکہ معظمہ میں احرام باندھ کر آنا،بغیر احرام داخلہ منع ہونا،حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کی دعا سے ہوا،اس جملہ نے حرم بنانے کے معنے واضح کردیئے۔
۳
؎یعنی اس زمین مدینہ کو تاقیامت محترم و معظم قرار دیتا ہوں حضرت خلیل اور حبیب کے حرم بنانے میں بہت طرح فرق ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ جناب خلیل نے اس زمین مکہ کو حرم بنایا جو بعض وجوہ سے پہلے بھی حرم تھی اور لوگوں سے جو عظمت اس کی گم ہوگئی تھی وہ ظاہر فرمائی مگر حضور انور نے اس زمین مدینہ کو حرم بنایا جو پہلے سے معظم نہ تھی بلکہ لوگ اس سے گھبراتے تھےکہ یہ جگہ وباؤں کی تھی حتی کہ اس کا نام بھی یثرب تھا یعنی بلاؤں کا گھر۔
۴
؎مازمدو پہاڑوں کے درمیان تنگ راستہ کو کہتے ہیں جو کہیں بالکل مل جائے اور کہیں وسیع ہوجائے،اس سے مراد اطراف مدینہ ہیں۔(مرقات)
۵
؎لایحملالخ خون نہ بہانے کی تفسیر ہے یعنی مدینہ کی حدود میں مسلمان لڑیں بھڑیں نہیں جس سے خون خراب ہو کہ اگرچہ یہ حرکت ہر جگہ ہی بری ہے مگر مدینہ میں زیادہ بری،کسی امام کے ہاں اس کے یہ معنے نہیں کہ اگر مستحق قتل مجرم زمین مدینہ میں پناہ لے لے تو اس سے قصاص نہ لیا جائے یہ صرف مکہ معظمہ کی شان ہے کہ "مَنۡ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا
۶
؎یہ جملہ امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے کہ حرم مدینہ میں درخت کاٹنا درست ہے کہ یہاں چارے کے لیے کاٹنے کی اجازت دی،اگر درخت کاٹنا حرام ہوتے تو چارے کے لیے بھی نہ کاٹے جاتے جیساکہ مکہ معظمہ کے حرم میں ہے،رہا وہاں کے شکار کا حرام ہونا تو چڑیوں و دیگر پرندوں کے شکار کے جواز پر قریبًا سب ہی کا اتفاق ہے،چرندے کے شکارکو اکثروجمہور صحابہ درست مانتے ہیں،بعض نے منع فرمایا مگر اس شکار کی بھی قیمت خیرات کرنا کسی کے ہاں واجب نہیں اور نہ کسی حدیث سے اس کا وجوب ثابت ہے۔غرضکہ حرم مکہ بمعنی تحریم ہے اور حرم مدینہ بمعنی احترام، مدینہ منورہ کا احترام مکہ معظمہ سے بھی زیادہ ہے۔خیال رہے کہ حرم مدینہ کو حرم مکہ سے تشبیہ دینا بعض وجوہ یعنی احترام و تعظیم کے لحاظ سے نہ کہ تمام وجوہ سے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ"کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ مدینہ منورہ دارالھجرۃ ہے یہاں لوگ کثرت سے حاضر ہوں گے لہذا یہاں سے درخت وغیرہ نہ کاٹو تاکہ یہاں کی زینت نہ جاتی رہے،آج دیگر سرکاری جگہ میں پھول توڑنا،درخت کاٹنا منع ہوتا ہے،کیوں ؟بقاء زینت کے لیے یہ حکم بھی ایسے ہی ہے کہ چارے کے لیے کاٹ لو بلاضرورت نہ کاٹو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2732