Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2749

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعَضَاهَهٗ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلّٰهِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: "أَنَّهٗ" بَدَلُ "أَنَّهَا"

وعن الزبير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن صيد وج وعضاهه حرم محرم لله» . رواه أبو داود وقال محي السنة: «وج» ذكروا أنها من ناحية الطائف وقال الخطابي: "أنه" بدل "أنها"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مقام وجّ کا شکار اور وہاں کے درخت حرام ہیں ۱؎جنہیں اللّٰه نے حرام کیا(ابوداؤد)اور محی السنہ نے فرمایا کہ وج کے متعلق لوگ کہتے ہیں وہ طائف کے اطراف سے ہے اور خطابی نے بجائےانھاکےانہفرمایا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎وَ جّواؤ کے فتح جیم کے شد سے،وادی حنین سے آگے طائف سے قریب ایک وادی کا نام ہے جہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔عضاہخار دار درختوں کو کہتے ہیں،اس مقام کی حرمت کسی خاص وقت میں ہوگی جو بعد میں منسوخ ہوگئی،یہ جگہ حرم مدینہ سے بہت دور ہے نہ مکہ معظمہ کے حرم میں داخل ہے نہ مدینہ منورہ کے حرم میں،طائف مکہ معظمہ سے ستر۷۰ میل فاصلہ پر ہے اور وادی وجّ وہاں سے قریب ہے تو اسے مدینہ پاک سے تو کوئی قرب ہے ہی نہیں۔
۲
؎یعنی خطابی کی روایت میں بجائے مؤنث ضمیر کے مذکر ضمیر ہے مگر ا سمیں فرق نہیں پڑتا ایک جگہ کو موضع کے معنے میں مذکر کہہ سکتے ہیں اور بقعہ کے معنے سے مؤنث مقامات کے ناموں میں وسعت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2749