Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2757

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ: بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَمَا قُلْتَ» قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هٰذَا إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا مِثْلَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ مَا عَلَى الأَرْضِ بُقْعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا

وعن يحيى بن سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان جالسا وقبر يحفر بالمدينة فاطلع رجل في القبر فقال: بئس مضجع المؤمن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بئسما قلت» قال الرجل إني لم أرد هذا إنما أردت القتل في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا مثل القتل في سبيل الله ما على الأرض بقعة أحب إلي أن يكون قبري بها منها» ثلاث مرات. رواه مالك مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم تشریف فرما تھے اور مدینہ منورہ میں ایک قبر کھودی جارہی تھی ۱؎تو ایک شخص قبر میں جھانک کر بولا کہ یہ مؤمن کا بڑا برا ٹھکانہ ہے ۲؎تب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے یہ غلط کہا ۳؎وہ صاحب بولے میری یہ نیت نہ تھی اللّٰه کی راہ میں شہادت میری مراد تھی ۴؎رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا (یہاں کا دفن)شہادت فی سبیل اللّٰه کے برابر بھی نہیں ۵؎زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں مجھے اپنی قبر کا ہونا اس جگہ سے زیادہ پیارا ہو تین بار فرمایا ۶؎(مالک)مرسلًا ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کسی صحابی کے جنازے میں تشریف لے گئے،قبر میں دیر تھی،سرکار عالی اور بندگان خاص اس قبر کے اردگرد تشریف فرما تھے،زہے نصیب اس مرنے والے کے۔شعر
نسخہ کو نین را دیباچہ اوست جملہ عالم بندگان خواجہ اوست
۲
؎یعنی مؤمن پر جس قدر تکالیف آتی ہے ان سب میں قبر کی وحشت و دہشت زیادہ سخت ہے جس سے دل کانپتا ہے۔
۳
؎کیونکہ مؤمن کی قبر خصوصًا جب کہ زمین مدینہ میں ہو جنت کی کیاری ہے،مؤمن کو وہاں دہشت وحشت کیسی ؟ بلکہ وہ تو یار سے ملنے کی جگہ ہے۔
۴
؎یعنی میرا مقصد یہ تھا کہ اگر یہ شخص میدان جنگ میں شہید ہوتا اور اسے دفن بھی میسر نہ ہوتا تو اس کو بستر پر مرنے اور دفن ہونے سے بہتر ہوتا،بستر کی موت و دفن شہادت کی موت اور بے گوری و بے کفنی سے بری ہے مطلقًا قبر کو برا نہ کہا ہے بلکہ شہادت کے مقا بلہ میں۔
۵
؎یعنی مدینہ پاک میں مرنا یہاں دفن ہونا دوسری جگہ شہید ہونے اور نعش پامال ہونے سے بھی افضل ہے،جب مدینہ کی موت دوسری جگہ کی شہادت سے افضل ہے توان شاءاللّٰهمدینہ پاک کی زندگی دوسری جگہ کی بعض عبادات سے یقینًا بہتر ہے کہ وہاں رہنا بھی عبادت ہے مگر ایمان کے ساتھ،اس صورت میں یہ کلام عالی اس کے کلام کی تردید ہے،یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے کلام کی تائید ہو یعنی ہاں شہادت فی سبیل اللّٰه مدینہ کی موت و دفن سے افضل ہے اگر کسی کو شہادت میسر نہ ہو تو مدینہ میں مرنے کی کوشش کرے۔(اشعہ)مگر یہ معنے کچھ بعید سے ہیں پہلے معنے قوی تر۔
۶
؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ آخری جملہ تین بار فرمایا کہ مجھے زمین مدینہ میں دفن ہونا اس قدر پیارا ہے کہ اور جگہ کی شہادت بھی اتنی پیاری نہیں،میں یہاں کا دفن بہت ہی پسند کرتا ہوں۔بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر چند مسائل فرمائے:ایک یہ کہ مدینہ منورہ مکہ معظمہ سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ مدینہ منورہ کی موت مکہ معظمہ کی موت سے بہتر ہے(اس پر تو تمام امت کا اجماع ہے)۔تیسرے یہ کہ مدینہ منورہ میں جینا مکہ معظمہ میں جینے سے بہتر ہے ۔ چوتھے یہ کہ مدینہ پا ک کی موت دوسری جگہ شہادت فی سبیل اللّٰہ سے اعلی ہے۔پانچویں یہ کہ مدینہ منورہ میں حضر کی موت دوسری جگہ سفر و غربت کی موت سے اعلی ہے ،بعض روایات سے شہادت ا ور غربت کی موت کی افضلیت ثابت ہے وہ افضلیت جزوی ہوگی اور یہ افضلیت کلیہ ہے لہذا ان میں تعارض نہیں اور اگر مدینہ منورہ میں شہادت و غربت کی موت نصیب ہوجائے تو پوچھنا ہی کیاجیسے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو نصیب ہوئی،اللہم ارزقنا الموت فی بلد حبیبكصلی اللّٰہ علیہ وسلم۔(مرقات)
۷
؎کیونکہ یحیی ابن سعید تابعین میں سے ہیں جنہوں نے انس ابن مالک سائب ابن یزید اور بہت سے صحابہ کرام سے ملاقات و روایات کیں اور ان سے ہشام ابن عروہ،مالک ابن انس،شعبہ ثوری،ابن عیینہ، ابن مبارک وغیرہ بزرگوں نے روایات کیں۔تابعی اگر صحابی کا ذکر نہ فرمائیں تو حدیث مرسل ہوتی ہے لہذا یہ حدیث مرسل ہے اور ثقہ تابعی کا ارسال قبول ہے جیسے امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے۔ خیال رہے کہ یہ یحیی ابن سعید انصاری ہیں اور یحیی ابن سعید قطان دوسرے بزرگ ہیں جو آئمہ محدثین سے ہیں وہ یہاں مراد نہیں۔ (مرقات واشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2757