Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2754

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ بِالمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اللهم اجعل بالمدينة ضعفي ما جعلت بمكة من البركة»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا الٰہی جو برکتیں تو نے مکہ مکرمہ میں دی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ منورہ میں دے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بعض علماء نے برکت سے ظاہری و باطنی برکت مراد لی ہے یعنی مدینہ کی عبادات اور یہاں کے رزقوں میں برکت مکہ معظمہ سے دوگنی دے کہ یہاں کی عبادات کا ثواب مکہ معظمہ کی عبادات سے دوگنا ہواور یہاں کے غلہ و میوے میں برکتیں مکہ معظمہ سے دوگنی ہوں،اس بنا پر انہوں نے مدینہ منورہ کو مکہ معظمہ سے افضل مانا اور یہاں کی عبادات کا ثواب مکہ معظمہ کی عبادات سے زیادہ قرار دیا،بعض نے فرمایا کہ یہاں رزق کی برکتیں مراد ہیں یعنی حسی برکتیں،وہ فرماتے ہیں کہ ثواب کی برکتیں مکہ معظمہ میں دوگنی ہیں اور روزی کی برکتیں مدینہ پاک میں دوگنا لہذا حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کہ مکہ معظمہ میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے اور مدینہ منورہ میں ۵۰ ہزار مدینہ پاک کی رزق کی برکتیں تو آج بھی آنکھوں دیکھی جارہی ہیں کہ وہاں پھل فروٹ میسر ہوتے ہیں اور وہاں کی آب و ہوا ایسی پیاری ہے کہ مکہ مکرمہ کی نہیں۔فیصلہ عشق یہ ہے کہ مکہ معظمہ کی عبادت کا ثواب زیادہ اور مدینہ پاک کی عبادات کا قرب زیادہ،درجہ اعلٰی لہذا برکت قرب و درجہ مدینہ پاک میں دوگنا ہے برکت ثواب مکہ معظمہ میں دوگنا،دونوں حدیثیں درست و صحیح ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2754